رسائی کے لنکس

برطانوی فوجیوں کی ہلاکت سے حوصلے متزلزل نہیں ہوں گے: کیمرون

  • عادل زیب

فائل

فائل

جنوبی افغانستان میں برطانوی فوجوں کی ہلاکت کے بعد 2001ء سے اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد 404 ہوگئی ہے

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغانستان میں چھ برطانوی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی افواج کا جانی نقصان اُنھیں اپنی فورسز کی وہ خدمات یاد دلاتا ہے جو برطانیہ کو محفوظ بنانے کے لیے گذشتہ دس سالوں سے افغانستان میں دی جارہی ہیں۔

برطانوی ہاؤس آف کامنز کے وقفہٴ سوالات کے دوران ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے برطانوی فوج کےحوصلے متزلزل نہیں ہوں گے۔

اُن کے الفاظ میں، ’ افغانستان میں ہمارا مشن آج بھی ہماری سکیورٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اپنی موجودگی سے افغانستان کو دوبارہ القاعدہ کی محفوظ جنت بنانے نہیں دیں گے جہاں سے ہم پر اور ہمارے اتحادیوں پر دہشت گرد دوبارہ حملے کر سکیں‘۔

جنوبی افغانستان میں برطانوی فوجوں کی ہلاکت کے بعد 2001ء سے اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد 404ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں اپوزیشن لیبر پارٹی کے راہنما ملی بینڈ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن، اِس موقع پر ایک اور رکنِ پارلیمنٹ بِک بروک کی جانب سے 2014ء میں نیٹو کے انخلا کے بعد افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت اور قابلیت پر سوال اٹھانے سے برطانوی ہاؤس آف کامنز میں افغانستان کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اپنے سوال میں، نِک بروک نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ آئندہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما سے اُن کی ملاقات میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان فوج کو 2014ء میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے درکار تربیت اور ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اُن کا ٹاسک نیٹو کے انخلا سے قبل افغان حکومت اور فوج کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بغیر کسی بیرونی امداد کے اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں۔

گذشتہ عرصے، افغانستان میں ہونے والے پُر تشدد واقعات کے بعد امن و امان کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کے پیشِ نظر مغربی میڈیا میں تسلسل سے یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا افغان سکیورٹی فورسز واقعی 2014ء تک افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے قابل ہوں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کے درمیان آئندہ ہفتے ہونے ملاقات میں اِن نکات پر اہم بات چیت متوقع ہے۔

XS
SM
MD
LG