رسائی کے لنکس

پابندیوں کے خاتمے کے لیے برما مزید اصلاحات کرے: برطانوی وزیر خارجہ


پابندیوں کے خاتمے کے لیے برما مزید اصلاحات کرے: برطانوی وزیر خارجہ

پابندیوں کے خاتمے کے لیے برما مزید اصلاحات کرے: برطانوی وزیر خارجہ

برما کے حزب اختلاف کی رہنما آنگ ساں سوچی کا بھی یہ کہنا تھا کہ موجودہ سال یہ ثابت کرے گا کہ برما حقیقی جمہوریت کی جانب بڑھ رہاہے

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے جمعے کے روز کہا کہ برما کی حکومت کو خود پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے مزید اصلاحات کرنا ہوں گی۔

ولیم نے ، جو گذشتہ 50 سال کے عرصے میں پہلی بار برما کا دورہ کرنے والے برطانوی وزیر خارجہ ہیں،کہا کہ صدر تھین سین کی جانب سے اب تک کی جانے والی اصلاحات سےان توقعات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنوبی ایشیا میں واقع یہ ملک اپنی جمہوری منزل حاصل کرسکتا ہے۔

لیکن انہو ں نے کہا کہ ناقدین یہ چاہتے ہیں کہ برما کی حکومت پر سیاسی قیدیوں کی رہائی سمیت مزید اصلاحات کے لیے دباؤ برقرار رکھاجائے۔

ہیگ نے جمعرات کو ملک کے انتظامی دارالحکومت میں صدر تھین سین اور کئی اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقاتیں کیں۔

بعد ازاں انہوں نے جمہوریت نواز راہنما آنگ ساں سوچی کے ساتھ ایک عشائیے میں شرکت کی۔

آنگ ساں سوچی نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ ملک کی جمہوری حکومت کی جانب سےکی جانے والی اصلاحات انتہائی کم ہیں اور فوج کی جانب سے تبدیلیوں کا راستہ روکے جانے کا خطرہ موجود ہے۔

لیکن ان کا کہناتھا کہ وہ مستقبل سے پرامید ہیں۔

جمعرات کے روز ان کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو حکومت نے یکم اپریل کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ یہ انتخاب 48 نشستوں پر لڑا جارہاہے۔

آنگ ساں سوچی کا یہ بھی کہناتھا کہ موجودہ سال یہ ثابت کرے گا کہ برما حقیقی جمہوریت کی جانب بڑھ رہاہے۔

XS
SM
MD
LG