رسائی کے لنکس

نئی مخلوط برطانوی حکومت کا مستقبل ؟


نئی مخلوط برطانوی حکومت کا مستقبل ؟

نئی مخلوط برطانوی حکومت کا مستقبل ؟

برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں کسی سیاسی جماعت کو واضح برتری نہ ملنے کی وجہ سے قدامت پرستوں اور آزاد ڈیموکریٹس نے مل کر پہلی مرتبہ ایک غیر روایتی اتحادی حکومت قائم کی ہے ۔ برطانیہ کی یہ دونوں سیاسی جماعتیں جو اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کی خارجہ پالیسی کو کبھی افغانستان میں جاری جنگ اور کبھی یورپی ملکوں سے تعلقات کی بنیاد پر ہدف تنقید بناتی رہی ہیں ، کیا اب برطانیہ کے اقتدار کو مل جل کر چلا سکیں گی ؟ کئی تجزیہ کار برطانیہ کے اس سیاسی اتحاد کو طویل مدتی قرار دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آرہے ہیں ۔

افغان صدر حامد کرزئی نئے برطانوی وزیر اعظم کی دعوت پر لندن پہنچنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ تھے ،جنہیں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ عہدہ سنبھالنے کے فورا بعد برطانیہ آنے کی دعوت دے کر اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت واضح کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون نے ایک ایسے ملک کی باگ دور سنبھالی ہے ، جس کے دس ہزار فوجی افغانستان میں ہیں اور ان کی اتحادی حکومت میں شامل لبرل ڈیمو کریٹک اراکین افغان جنگ کی انسانی اور مالی قیمت کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں ۔ تو کیا یہ اختلاف رائے برطانیہ کی اتحادی حکومت کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے ؟ برطانوی پارلیمنٹ کے سابق کنزرویٹو رکن اور ایک اخبار کے کالمسٹ میتھیو پیرس کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور نائب وزیر اعظم نک کلیگ دونوں کو افغان جنگ میں برطانیہ کےکردار اور جنگ کے نتیجے کے بارے میں کئی طرح کے تحفظات ہیں ۔ لیکن میرا خیال میں دونوں اس پرمتفق ہیں کہ برطانیہ اس وقت تک اس جنگ سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا جب تک امریکہ بھی ایسا نہ کرے ۔

اس کے باوجود کہ ایران کی جانب ترکی اور برازیل کے ساتھ ایرانی ایٹمی ایندھن ملک سے باہر افزودہ کرنے کا معاہدہ کیا جا چکا ہے ۔برطانیہ کی نئی حکومت ایران کو اپنے لئےخطرہ سمجھتی ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ایران پر اس کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے نئی پابندیا ں عائد کرنے کے لئے کام کر رہی ہے ۔ ایرانی صدر احمدی نژاد برطانیہ اور مغربی ملکوں پر اپنے ماضی میں جینے کا الزام عائد کرتے ہیں ، جوان کے بقول دیگر ملکوں سے اپنے احکامات کی بجا آوری کے خواہش مند ہیں ۔ یہی معاملہ برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ ولیم ہیگ کے واشنگٹن کے پہلے دورے میں سر فہرست رہاجب انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو ناممکن قرار دینے سے انکار کر دیا ۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے کبھی مستقبل کی کسی فوجی کارروائی کو ناممکن قرار نہیں دیا ۔مگر ہم اس کا مطالبہ بھی نہیں کر رہے ، ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ پر امن طریقے سے حل ہو جائے ۔ ہم جلد پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر سر جیریمی گرین بیک کہتے ہیں کہ فوجی کارروائی کی بات ایک نپی تلی حکمت عملی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تو یہ دھمکی دینے جیسا معاملہ ہے ۔ میرے خیال میں برطانوی عوام اور پارلیمنٹ کسی فوجی کارروائی میں حصہ لینے کی مخالفت کرے گی مگر ان معاملات میں فیصلے کا اختیار حکومت کے پاس ہے ۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آگے کیا ہوتا ہے ۔

سر جیریمی گرین بیک کہتے ہیں کہ برطانیہ کی نئی حکومت جو پہلے ہی ایک زبردست مالی بحران سے گزر رہی ہے ، خارجہ پالیسی کے امور پر کوئی نیا راستہ چننے کی کوشش نہیں کرے گی ۔

وہ کہتے ہیں کہ میرانہیں خیال کہ یہ برطانیہ میں جماعتی سیاست کا معاملہ ہے کہ برطانیہ عالمی مسائل کے حل میں کیا کردار ادا کرتا ہے ، یا جہاں مدد کی ضرورت ہے وہاں کتنی مدد دیتا ہے ۔یہ پالیسی پہلے جیسی رہے گی ۔اس حکومت کا امتحان ملکی معیشت اور برطانیہ کے قومی قرضوں اور خسارے کی صورتحال کو بہتر بنا نا ہوگا ۔

یونان کے قرضوں کی صورتحال اور حکومت مخالف مظاہروں اور یورپی ملکوں کی معاشی مشکلات کو برطانیہ میں بغور دیکھا جا رہا ہے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ برطانوی حکومت کی ترجیح ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنا ہے ۔جبکہ امریکہ کے حامی سمجھے جانے والے وزیر خارجہ کی موجودگی میں ماہرین کے مطابق یورپ کی حالیہ مالیاتی مشکلات لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی کا جھکاؤ یورپ کی طرف رکھنے کے باوجود برطانیہ اور امریکہ کے درمیان مضبوط روابط قائم رکھیں گی ۔برطانیہ کی نئی حکومت نے ویسے تو ابھی اپنا کام شروع ہی کیا ہے ۔ لیکن اس حکومت میں شامل دونوں جماعتوں نے اپنے اختلافات بھلا کر برطانیہ کی معیشت کو درست راستے پر ڈالنے کے عزم کا اظہار جاری رکھا ہوا ہے ۔

XS
SM
MD
LG