رسائی کے لنکس

فون ہیکنگ اسکینڈل: برطانوی وزیر اعظم کے حوالے سے نئی معلومات


برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون

برطانیہ میں منظر عام پر لائی گئی معلومات کے مطابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور فون ہیکنگ اسکینڈل میں ملوث روپرٹ مرڈوک کے ادارے کے اعلیٰ ترین عہدے داروں کے درمیان قریبی روابط رہے ہیں۔

مسٹر کیمرون کا کہنا ہے کہ 14 مہینوں قبل برطانیہ کا رہنما منتخب ہونے کے بعد سے اُنھوں نے مرڈوکس نیوز کارپوریشن کے عہدے داروں سے 26 ملاقاتیں کیں، جو کسی ایک خبررساں ادارے کے دوروں کی تعداد سے دو گنا سے بھی زیادہ تھیں۔

ریکارڈ کے مطابق ربیکا بروکس، جنھوں نے جمعہ کو برطانیہ میں مرڈوک کے پریس آپریشنز کی سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا، وہ واحد شخصیت تھیں جنھیں مسٹر کیمرون نے دو مرتبہ چیکرز آنے کی دعوت دی۔

ڈیوڈ کیمرون نے اینڈی کالسن کو بھی چیکرز میں مدعو کیا۔ برطانوی رہنما نے یہ دعوت کالسن کی جانب سے وزیر اعظم کے ترجمان کا عہدے چھوڑنے کے دو ماہ بعد دی۔

کالسن روزنامہ ’نیوز آف دی ورلڈ‘ کے سابق مدیر ہیں جسے مرڈوک نے گزشتہ ہفتے بند کر دیا تھا۔ وہ صحافیوں کی جانب سے مختلف لوگوں بشمول ایک مقتول نوجوان لڑکی کے موبائل فون ہیک کرنے کے الزامات کے مرکزی کردار ہیں۔

اینڈی کالسن

اینڈی کالسن

رواں ماہ کالسن پر بدعنوانی اور مواصلات تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کی سازش کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ وہ فون ہیکنگ اسکینڈل کے سلسلے میں تاحال گرفتار کیے گئے نو افراد میں سے ایک ہیں۔

برطونوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ جمہوری معاشرے میں برطانوی رہنما کے میڈیا کے اعلیٰ ترین عہدے داروں سے رابطے کوئی انوکھی بات نہیں۔ لیکن اپوزیشن لیبر جماعت کا کہنا ہے کہ متواتر ملاقاتیں مسٹر کیمرون کے درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے فقدان کو ظاہر کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG