رسائی کے لنکس

برطانیہ: ریفرنڈم میں نئے انتخابی نظام کی تجویز مسترد


برطانیہ: ریفرنڈم میں نئے انتخابی نظام کی تجویز مسترد

برطانیہ: ریفرنڈم میں نئے انتخابی نظام کی تجویز مسترد

ریفرنڈم کے نتیجے کا سب سے زیادہ نقصان لبرل ڈیموکریٹس کو ہوا ہے جو اس منصوے کے سب سے زیادہ حامی تھے

برطانیہ میں ووٹروں کی ایک بڑی اکثریت نےایک ریفرنڈم میں اپنے ووٹ کے ذریعے ملک کا انتخابی نظام تبدیل کرنے کے ایک منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔

حتمی نتائج سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ جمعرات کی ووٹنگ میں 68 فی صد رائے دہندگان نے متبادل ووٹ کے نظام پر اپنا جواب نفی میں دیا ہے۔

مجوزہ منصوبے میں کہاگیا تھا کہ ووٹرانتخابات میں امیدوار وں کی درجہ بندی اپنی پسند کے مطابق کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت اگر ایک ووٹر کی پہلی ترجیح کا امیدوار کامیاب نہیں ہوتا تو اس کا ووٹ دوسرے امیدوار کے حق میں چلاجائے گا اور اگر وہ بھی منتخب ہونے سے رہ جاتا ہے تو ووٹ تیسرے نمبر کے امیدوار کے حق میں شمار کیا جائے گااور یہ سلسلہ امیدواروں کی فہرست کے آخر تک جائے گا۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ تھا کہ مقابلے میں شامل کو ئی امیدوار اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔

سکاٹ لینڈ میں سکاٹس نیشنل پارٹی پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت سے جیت گئی ہے۔ سکاٹ لینڈ کی علاقائی حکومت کے قیام کے بعد سے یہ ان کی پہلی کامیابی ہے۔

مجموعی طورپر سکاٹس پارٹی نے 69 نشستیں جیتی ہیں ، جب کہ لیبر پارٹی دوسرے نمبر پر رہی ہے اور اس کی نشستوں کی تعداد 37 ہے۔ اس کامیابی کے بعد اسکاٹس نیشنل پارٹی کے راہنما ایلکس سالمنڈ نے کہاہے کہ وہ آئندہ چار برسوں میں برطانیہ سے آزادی کے لیے ووٹنگ کی کوشش کریں گے۔

ریفرنڈم کے نتیجے کا سب سے زیادہ نقصان لبرل ڈیموکریٹس کو ہوا ہے جو اس منصوے کے سب سے زیادہ حامی تھے۔ لبرل ڈیموکریٹس کے لیڈر نک کلیگ کے پاس نائب وزیر اعظم کا عہدہ ہے۔

لبرل ڈیموکریٹس کو مقامی کونسلوں کے انتخابات میں بھی بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑاہے۔ کلیگ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو، جو کنزرویٹو قیادت کی حکومت میں شراکت دار ہے، حکومتی اخراجات میں کٹوتیوں کی وجہ سے عوام میں اپنی مقبولیت سے محروم ہونا پڑا ہے۔

XS
SM
MD
LG