رسائی کے لنکس

امریکی اداروں کی ہیکنگ کا الزام، برطانوی شخص گرفتار


فائل

فائل

اِن نظاموں کے اندر داخل ہونے کے بعد، اُنھوں نے قبضہ کیے گئے نیٹ ورکس میں پوشیدہ ’شیلز‘ یا ’بیک ڈورز‘ شامل کیے؛ جِن کی مدد سے وہ سسٹمز میں دوبارہ واپس آئے اور ’خفیہ ڈیٹا‘ چوری کیا

امریکہ کے متعدد سرکاری اداروں اور امریکی فوج کے کمپوٹروں کی ہیکنگ کے الزام میں برطانیہ کے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

’لوری لوو‘ پر ہزاروں کمپیوٹر نظاموں میں داخل ہو نے کا الزام ہے، جِن میں پینٹاگان کی میزائل ڈفنس ایجنسی، امریکی فوج کا ’کور آف انجنیئرز‘، امریکی خلائی تحقیق کا ادارہ ’ناسا‘ اور امریکہ کے ماحول کی حفاظت سے متعلق ادارہ شامل ہے۔

مشرقی ریاست، نیو جرسی کے وفاقی ’گرانڈ جیوری‘ نے لوو پر فردِ جرم عائد کی ہے، جِس میں الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اور اُن کے بے نامی شریک سازش کُنندگان نےاکتوبر 2012ء اور اکتوبر 2013ء کے درمیان کمپیوٹر نظاموں کو ہیک کیا تھا۔

اِن نظاموں کے اندر داخل ہونے کے بعد، اُنھوں نے قبضہ کیے گئے نیٹ ورکس میں پوشیدہ ’شیلز‘ یا ’بیک ڈورز‘ شامل کیے؛ جِن کی مدد سے وہ سسٹمز میں دوبارہ واپس آئے اور ’خفیہ ڈیٹا‘ چوری کیا۔

فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ چوری کیے گئے ڈیٹا میں، فوج میں خدمات انجام دینے والے اہل کاروں اور دیگر لوگوں کی ذاتی شناخت سے متعلق نجی معلومات شامل ہے۔

تاہم، پیر کے روز برطانوی حکام نے کہا ہے کہ لوو پر برطانوی قانون کی رو سےالزام دائر کیے گئے ہیں، جِس کے تحت ایسے افراد جِن پر برطانیہ کی سرزمین سے دنیا کے کسی کمپیوٹر نظام پر حملہ کرنے کا الزام ہو، گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

اُنھیں جمعے کےدِن لندن کے شمال میں 110کلومیٹر فاصلے پر واقع اُن کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ اُنھیں فروری تک ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG