رسائی کے لنکس

تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ بستر مرگ پر پڑے ہوئے مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کے لحاظ سے برطانیہ کو دنیا بھر میں سبقت حاصل ہے۔

دنیا بھر میں ایسی کونسی جگہ ہو سکتی ہے، جہاں کی بہترین طبی خدمات کی وجہ سے آپ وہاں مرنا پسند کریں گے تو اس سوال کا جواب ایک بین الاقوامی مطالعے نے دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے اسپتالوں میں اختتامی زندگی کی دیکھ بھال کا معیار دنیا میں سب سے بہترین ہے، جہاں مریض کے لیے پرسکون موت مرنے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔

ایک اہم تحقیق میں دنیا کے 80 ممالک کے اسپتالوں میں مسکن خدمات کے معیار کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے اور نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ بستر مرگ پر پڑے ہوئے مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کے لحاظ سے برطانیہ کو دنیا بھر میں سبقت حاصل ہے۔

'دی اکنامسٹ 2015 ڈیتھ انڈیکس' میں آخری لمحات میں مریض کی دیکھ بھال کے معیار کی بنیاد پر دنیا کے اسی ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے اور برطانوی اسپتالوں نے مریضوں کی اختتامی زندگی کی دیکھ بھال کے معیار اور علاج کے لحاظ سے مجموعی اسکور 100 میں سے 93.9 کا اعلیٰ اسکور حاصل کیا ہے۔

دنیا بھر کے اسپتالوں میں مریضوں کو آخری وقت میں فراہم کی جانے والی مسکن خدمات کے معیار کے لحاظ سے آسٹریلیا فہرست میں دوسرے اور نیوزی لینڈ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ آئر لینڈ اور بیلجیئم بہترین طبی خدمات کے ساتھ بالترتیب چوتھے اور پانچویں پوزیشن پر ہیں۔

انڈیکس میں جرمنی، ہالینڈ بالترتیب ساتویں اور آٹھویں پوزیشن پر علاوہ ازیں امریکہ اور فرانس نویں اور دسویں پوزیشن پر ہیں۔ اسی طرح کینیڈا کوالٹی آف ڈیتھ کی درجہ بندی میں گیارہویں نمبر پر شامل ہے جبکہ عراق فہرست میں سب سے نچلے نمبر پر ہے۔

مسکن خدمات کی اصطلاح اس دیکھ بھال کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو بیماری کا علاج نہیں ہے بلکہ اس طریقے سے مریض کو آخری وقت میں نفسیاتی امداد اور درد میں کمی کی ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔

نتائج دنیا بھر سے آخری وقت کی دیکھ بھال کے 120 ماہرین کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ محققین نے یہ فہرست اسپتالوں میں دیکھ بھال کے معیار، اسپتالوں کے عملے کی تعداد اور تربیت، اخراجات اور رشتہ داروں کی طرف سے مانگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی ہے۔

فہرست سے ظاہر ہوا کہ زیادہ آمدنی رکھنے والے ممالک کے اسپتالوں میں آخری وقت کی دیکھ بھال کا معیار اچھا ہونے کا امکان تھا۔ اسی طرح ترقی پذیر ممالک نے بھی مریضوں کی دیکھ بھال کے لحاظ سے ترقی کی سیڑھی چڑھی ہے۔

جیسا کہ منگولیا اور پاناما فہرست میں بالترتیب 28 اور 31 ویں نمبر پر ہیں جبکہ یوگنڈا نے موثر پین کلر ادویات کی فراہمی کے لحاظ سے اس فہرست میں 35 پوزیشن حاصل کی ہے۔

اسی طرح سعودی عرب فہرست میں 60 اور اردن 37 ملائیشیا 38 ترکی 47، مصر 56 سری لنکا 65 جبکہ مسکن خدمات کے لحاظ سے برازیل اور میکسیکو فہرست میں بالترتیب 42 اور 43 نمبر پر شامل ہیں۔

ایشیا میں مریضوں کی آخری وقت کی دیکھ بھال کے لحاظ سے تائیوان سرفہرست ہے جس نے کوالٹی آف ڈیتھ کی نئی فہرست میں 6 نمبر پر جگہ حاصل کی ہے اس نتیجے کے برعکس چین اور انڈیا دنیا کی دو سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک اس فہرست میں بالترتیب 67 اور 71 نمبر پر ہیں۔

تاہم امیر یورپی ممالک اور بعض ترقی پذیر ایشیائی ممالک نے اس فہرست میں ٹاپ 20 میں جگہ حاصل کی ہے۔ دریں اثناء پاکستان اس مطالعہ کا حصہ نہیں تھا۔

برطانیہ نے مریضوں پر مالی بوجھ کے زمرے میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں، اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے اسپتالوں میں اختتامی زندگی کی دیکھ بھال کے اسی سے سو فیصد اخراجات مریض کے بجائے خیراتی اداروں کی جانب سے برداشت کیے جاتے ہیں۔

اسی طرح معیاری دیکھ بھال کے زمرے میں برطانیہ، کے بعد سویڈن اور آسٹریا کا نمبر ہے جبکہ نیوزی لینڈ چوتھی پوزیشن پر ہے یہ زمرہ درد کی ادویات، نفسیاتی امداد اور نگرانی کے معیار پر پرکھا جاتا ہے۔

اسپتالوں میں سستی خدمات کے زمرے میں پہلے گروپ میں آسٹریلیا، بیلجیئم ، ڈنمارک، آئرلینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔

دنیا میں جہاں اختتامی زندگی کی دیکھ بھال کی سہولیات کا معیار کم تر ترین درجے پر ہے ان ممالک میں بنگلہ دیش، فلپائن، نائجیریا، ایران، میانمار اور گوئٹے مالا وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG