رسائی کے لنکس

مغربی کنارے میں قطعہٴزمین پر دعویٰ، برطانیہ کی تشویش


فائل

فائل

امریکی محکمہٴخارجہ نے بھی تل ابیب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِثانی کرے، یہ کہتے ہوئے کہ زمین کا حصول خطے میں امن کی کوششوں کے لیے ’نقصاندہ‘ ثابت ہوگا

حکومتِ برطانیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے کے اندر کے ایک بڑے قطعہٴارض کو مختص کرنے کے اقدام سے، بقول اُس کے،’بین الاقوامی برادری میں اسرائیل کے مؤقف کو سنگین دھچکا پہنچے گا۔‘

اتوار کے دِن اسرائیل نے بیت اللحم کے قریب گش اتزیون کے علاقے میں تقریبا ً 400 ہیکٹرز کے قطعہٴزمین پر دعوے کا اعلان کیا، جس کے بارے میں ناقدین نے گذشتہ 30برسوں کے دوران اسرائیل کی طرف سے اپنے قبضے میں لیا جانے والا سب سے بڑا ٹکڑا قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ، گلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ، برطانیہ اسرائیلی حکومت کے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ بقول اُن کے، ’پہلی ترجیح، غزہ میں جنگ بندی کا قیام ہونا چاہیئے‘۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے بھی تل ابیب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِثانی کرے، یہ کہتے ہوئے کہ زمین کا حصول خطے میں امن کی کوششوں کے لیے ’نقصاندہ‘ ثابت ہوگا۔

فلسطین کے اعلیٰ مذاکرات کار، صائب عریقات نے اس اقدام کی مذمت کی ہے، جسے اُنھوں نے فلسطینی عوام اور اُن کی مقبوضہ سرزمین کے خلاف اسرائیلی جرائم کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے، وہ اِس قطعہٴزمین کو ’ریاست کی ملکیت‘ قرار دیتے ہیں۔ اور یہ جون میں بیت اللحم کے قریب تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغواٴ اور ہلاکت کا جواب ہے۔


اسرائیل نے تین فلسطینیوں کو مشتبہ قرار دیا ہے۔ یہ قتل اور بدلے میں اسرائیلیوں کی طرف سے ایک فلسطینی نوجوان کی ہلاکت غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی حالیہ لڑائی بھڑکانے کا سبب بنے۔

XS
SM
MD
LG