رسائی کے لنکس

خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ ملکہٴبرطانیہ کی رہائش گاہ کے نایاب کلیکشن میں ہاتھی دانت سے بنی 1,200 نودرات شامل ہیں جن میں بھارت کی طرف سے 1851ء ملکہ وکٹوریہ کو پیش کئے جانے والا بیش قیمت شاہی تخت بھی شامل ہے

شہزادہ ولیم نےبکنگھم پیلس کو ہاتھی دانت سے بنی اشیاء سے پاک کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شہزادہ ولیم شاہی ذخائر میں موجود ہاتھی دانت مصنوعات کو تلف کرنا چاہتے ہیں، تاکہ عالمی رہنماؤں کے لیے ایک مثال قائم کی جا سکے۔
برطانوی روزنامہ ’میل آن لائن‘ کے مطابق، جانوروں کے حقوق کے دیرینہ حامی ڈیوک آف کیمبرج مسلسل اپنی تقاریر میں عالمی حکمرانوں کو جانوروں کے غیر قانونی شکار قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی کو اپنانے کا مشورہ دیتے رہے ہیں اورآرائشی اشیاء تیار کرنے کے لیےشیروں، گینڈوں اور ہاتھیوں کے سفاکانہ قتل کا سلسلہ بند کرانے کے ایک مشن پر ہیں۔
خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ ملکہٴبرطانیہ کی رہائش گاہ کے نایاب کلیکشن میں ہاتھی دانت سے بنی 1,200 نودرات شامل ہیں جن میں بھارت کی طرف سے 1851ء ملکہ وکٹوریہ کو پیش کئے جانے والا بیش قیمت شاہی تخت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر ہاتھی دانت کے فن پاروں کا مجموعہ تحائف پر مشتعمل ہے پنکھے، گلدان اور مجسمے سمیت فرنیچر شامل ہے۔
شہزادے کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزادہ ولیم نے بکنگھم پیلس کے کلیرنس ہاؤس میں موجود ہاتھی دانت سی بنی ہوئی تمام اشیاء کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
گذشتہ جمعرات لندن میں ہونے والے'الیگل وائلڈ لائف ٹریڈ' کے سربراہ اجلاس میں انھوں نےاپنے والد شہزادہ چارلس کے ہمراہ شرکت کی، جس میں غیر قانونی جانوروں کے شکار میں ملوث گینگز کے تعاقب کرنے کے لیے انڈسٹری کے لوگوں پر زور دیا گیا تھا۔ اس سے چند ہی روز قبل، کئی زبانوں پر مشتعمل ایک اپیل میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں جانوروں کے غیر قانونی شکار کی مذمت کریں۔
انھوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا میں جانوروں کا غیرقانونی شکار کرنے والے بہت مضبوط اور با اثر ہیں۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے جانوروں کی بہت سی نسلیں معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ لیکن، اس ہفتے بنے والابا اثر اتحاد ان کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے زیادہ متحد دکھائی دیتا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں 40 ملکوں سے تعلق رکھنے والے عالمی رہنماؤں نے معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کو بچانے کے عزم کا اظہار کیا تھا اورمجرمانہ سرگرمیوں کا کا ایندھن بنائے والے جانوروں کے غیر قانونی شکار قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا ہے۔
جانوروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والی تنظیموں نے شہزادے ولیم کی تعریف کی ہے اور اس ا قدام کو ایک مثبت تجربہ قرار دیا ہے۔
ادھر ناقدین نے شاہی محل کے کلیکشن سےعالمی اہمیت کے حامل فن پاروں پر مشتعمل نودارات کو تلف کرنے کی مذمت کی ہے۔
XS
SM
MD
LG