رسائی کے لنکس

مغوی برطانوی صحافی رہا

  • ب

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں سمجھے جاتے ہیں۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں چھ ماہ قبل اغواء ہونے والے ایک برطانوی صحافی کو اغواء کاروں نے رہا کردیا ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں برطانوی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے اسد قریشی کی رہائی کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سفارتی عملے کے متعلقہ افسران رہائی پانے والے صحافی کو ضروری مد د فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم اُنھوں نے مزید کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں۔

اسد قریشی ایک برطانوی ٹی وی چینل کے لیے دستاویزی فلم بنانے کے سلسلے میں پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کے دو سابق افسران، سلطان امیر تارڑ اور خالد خواجہ، کے ساتھ اس سال مارچ میں افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے میں پہنچے تھے جہاں انھیں نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کرلیا۔

تاہم بعد میں ایشین ٹائیگر نامی ایک شدت پسند تنظیم نے ان تینوں افراد کو اغوا ء کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اغواء کے اس واقعہ سے قبل پاکستان میں اس تنظیم کا بظاہر کوئی وجود نہیں تھا۔

مغویوں پر قبائلی علاقے میں جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا اور اُن کی رہائی کے بدلے پاکستان میں قید اہم طالبان کمانڈروں کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کو بھیجی گئی ایک ویڈیو فلم میں ان تینوں افراد نے پاکستانی حکومت سے شدت پسندوں کے مطالبات مان کر اپنی رہائی کی اپیل کی تھی۔

مغویوں میں سے آئی ایس آئی کے سابق افسر خالد خواجہ کی گولیوں سے چھلنی لاش اپریل میں شمالی وزیرستان کے ایک علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔ لاش کے ساتھ ایک خط بھی حکام کو ملا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ”امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والو ں کا یہی انجام ہو گا“۔

خالد خواجہ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن بن کر کام کر رہے تھے اورصحافیوں کی مدد میں بھی پیش پیش تھے۔

تاہم اغواء ہونے والے آئی ایس آئی کے سابق بریگیڈیئر سلطان امیر تارڑ، المعروف کرنل امام، کے بارے میں فوری طور پر کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

1980 ء کی دہائی میں افغانستان پر روسی افواج کے قبضے کے خلاف افغان جہاد میں کرنل امام نے امریکی سی آئی اے کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔ اُنھوں نے کئی افغان مجاہدین کی تربیت کی تھی جن میں طالبان تحریک کے سربراہ ملا عمر بھی شامل ہیں۔

کرنل امام افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں مغربی شہر ہرات میں پاکستان کے قونصل جنرل کی حیثیت سے کام کر رہے تھے تاہم 2001 ء میں جب پاکستانی حکومت نے طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے اور انتہا پسندی کے خلاف امریکہ کی مہم میں شامل ہونے کا اعلان کیا توکرنل امام وطن واپس آ گئے۔

XS
SM
MD
LG