رسائی کے لنکس

پاکستانی نژاد ارکان پارلیمنٹ کی تعداد نئے دارالعوام میں مزید بہتر ہوئی ہے، جن کی تعداد اب 10 ہو گی ان میں سات ارکان نشستوں پر واپس آئے ہیں جبکہ تین نئے چہرے پارلیمنٹ بھی بھی نمودار ہوئے ہیں۔

نئے دارالعوام میں نسلی اقلیتی اراکین کی تعداد میں اضافہ پارلیمنٹ کے زیادہ متنوع ہو نے کی علامت کو ظاہر کرتا ہے۔

ٹائمز اخبار کے مطابق برطانیہ کی انتخابی تاریخ میں نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد میں اضافے کے ساتھ کچھ علاقوں میں خواتین کی نشستوں کے انعقاد میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

اگرچہ اس ڈرامائی تبدیلی کے نتیجے میں لیبر کے مجموعی اراکین پارلیمنٹ کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود لیبر کے ٹکٹ پر 99 خواتین رکن پارلیمنٹ منتخب ہو گئی ہیں۔

کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہےجن کی 68 خواتین رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔

لبرل ڈیمو کرٹیس کی سات سابق ارکان پارلیمنٹ میں سے ایک کو بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

دریں اثناء اسکاٹش پارلیمنٹ کی مجموعی نشستوں 59 میں سے 20 پر خواتین نے کامیابی حاصل کی ہے۔

خاص طور پر برسٹل کے چاروں انتخابی حلقوں میں خواتین اُمیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اسی طرح گلاسگو کے سات میں سے 4 حلقوں میں خواتین اُمیدوراوں کی جیت ہوئی ہے۔

روزنامہ مرر کے مطابق 2010ء کی پارلیمنٹ میں نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی تعداد 27 تھی جن میں سے 25 ارکان اپنی نشستوں پر واپس آئے ہیں جبکہ نئی پارلیمنٹ 41تارکین وطن ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ہو گی۔

علاوہ ازیں، سات خواتین رکن پارلیمنٹ پہلی بار برطانوی دارالعوم کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔

نتائج سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس پارلیمنٹ میں آکسفورڈ، کیمبرج اور پرائیوٹ اداروں سے تعلیم یافتہ اراکین کی تعداد کم ہے۔

پاکستانی نژاد ارکان پارلیمنٹ کی تعداد نئے دارالعوام میں مزید بہتر ہوئی ہے جن کی تعداد اب 10 ہو گی، ان میں سات ارکان نشستوں پر واپس آئے ہیں جبکہ تین نئے چہرے پارلیمنٹ میں نمودار ہوئے ہیں۔

کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے کامیاب ہونے والے پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ ساجد جاوید سرفہرست ہیں جنھیں برطانوی کابینہ کے پہلے مسلمان وزیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہ میڈیا، ثقافت اور کھیل کے وزیر ہیں ان کے علاوہ رحمٰن چشتی جلنگھم سے اور نصرت غنی نے ویل ڈن سے کامیابی حاصل کی۔

لیبر کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ میں صادق خان ٹوٹنگ لندن سے، یاسمین قریشی مانچسٹر بولٹن، شبانہ محمود برمنگھم لیڈی وڈ، خالد محمود برمنگھم پیری بر، عمران حسین بریڈ فورڈ ایسٹ اور ناز شاہ بریڈ فورڈ ویسٹ سے کامیاب قرار پائی ہیں۔

دو سابق رکن پارلیمنٹ جو اس پارلیمان کا حصہ نہیں رہے، ان میں برطانیہ کے پہلے پاکستانی رکن پارلیمنٹ چوہدری محمد سرور کے بیٹے انس سرور اور شمالی آئر لینڈ سے سکھ رکن پارلیمنٹ امن دیپ سنگھ بھوپال شامل ہیں جو اپنی نشست بچانے میں ناکام ہوئے ہیں۔

پارلیمان میں جو نئے چہرے شامل ہوئے ہیں ان کی مجموعی تعداد 16 ہے جن میں لیبر کی 8 اور 7 کنزرویٹو اور ایک ایس این پی سے ہے۔

برطانیہ کی تاریخ میں پہلی بار چینی نژاد ایلن میک رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں انھوں نے کنزرویٹو کے ٹکٹ پر ہیونٹ سے نشست جیتی ہے۔

ایک ایرانی نژاد خاتون سیما کینیڈی نے کنزرویٹو کی طرف سے لنکا شائر میں کامیابی حاصل کی ہے۔

بھارتی نژاد ارکان پارلمینٹ کی نمائندگی اب پارلیمنٹ میں 8 سے بڑھ کر 10 ہو گئی ہے، ان میں منجھے ہوئے سیاستدان کیتھ واز لیسٹر سے اپنی نشست پر واپس آئے ہیں۔

ان کے علاوہ پریتی پٹیل، سیما ملہوترا، ویلیری واز،الوک شرما،شیلیش وارا اور رشی سینک نمایاں ہیں۔

دارالعوام میں بنگلہ دیشی نژاد ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بنگلہ دیشی نژاد خواتین رکن پارلیمنٹ میں روشن آرا بیتھنل گرین سے اپنی نشست پر واپس آئی ہیں جبکہ روپا حق اور رضوانہ صدیقی پہلی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG