رسائی کے لنکس

برطانیہ میں تارکینِ وطن کے لیے انگریزی سیکھنا لازم قرار


فائل

فائل

ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ انگریزی زبان کی سمجھ بوجھ کی عدم موجودگی مسلمان خواتین کو انتہاپسندانہ سوچ کا زیادہ شکار بناتی ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ زبان بولنے میں ناکامی کی صورت میں کچھ تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا جائے گا

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ کی مسلم برادریاں خواتین کے خلاف نسلی تفریق اور امتیاز کا رویہ برت رہی ہیں، جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ انگریزی زبان کی سمجھ بوجھ کی عدم موجودگی مسلمان خواتین کو انتہاپسندانہ سوچ کا زیادہ شکار بناتی ہے۔

کیمرون کا یہ مضمون پیر کے دِن اخبار ’دی ٹائمز‘ میں شائع ہوا ہے، جس پر ناقدین کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اُنھوں نے مسلمان خواتین کے لیے انگریزی زبان کی کلاسیں شروع کرنے کی غرض سے تقریباً تین کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ زبان بولنے میں ناکامی کی صورت میں کچھ تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا جائے گا۔

کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی سابقہ قانون ساز، سعیدہ وارثی، برطانیہ کابینہ کی پہلی خاتون وزیر رہ چکی ہیں۔ اُنھوں نے زبان سیکھنے کے لیے رقوم مختص کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم، اُنھوں نے برطانیہ کے ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کیمرون کی تجاویز ’سست اور گمراہ کُن‘ سوچ کی غماز ہیں، جس کے تحت برطانیہ کی مسلمان برادریوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اِن مجوزہ نئے ضابطوں کے تحت جیون ساتھی ویزے پر پانچ سال کے لیے برطانیہ آنے والے غیرملکیوں کو رہائش کے نصف عرصے کے دوران انگریزی زبان سیکھنے کی مہارت ثابت کرنی ہوگی۔ ابلاغ عامہ میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اِن اقدامات کی مدد سے ایسے ویزے پر برطانیہ آنے والوں کی مزید رہائش کا معاملہ طے ہوگا۔

XS
SM
MD
LG