رسائی کے لنکس

سیاہ فام خاتون برطانوی لیبر پارٹی کی قیادت کی امیدوار


ڈیان ایبٹ

ڈیان ایبٹ

برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام خاتون نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت لیبر پارٹی کی قیادت کے لئے میدان انتخاب سنبھالا ہے ۔ ڈیان ایبٹ نے لیبر پارٹی کی صدارت کی امیدوار ہونے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب پہلی مرتبہ پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں برطانیہ کی مختلف نسلی اقلیتوں کے افراد برطانوی پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں ۔

ڈیان ایبٹ کا سیاسی سفر بیس سال پہلے برطانوی پارلیمنٹ کی رکنیت سے شروع ہوا تھا ۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کے دور میں لیبر پارٹی تیرہ سال تک برطانیہ پر حکمران رہی ۔ لیکن اس سال کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ایسے میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لئے پہلی بار میدان میں اترنے والی سیاہ فام ڈیان ایبٹ کہتی ہیں کہ ان کا انتخاب برطانیہ اور لیبر پارٹی دونوں کے مفاد میں بہترین ثابت ہوگا ۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں آج کے برطانیہ کو ،جو اتنا بدل چکا ہے ، اتنے رنگ و نسل کے لوگوں کا ملک بن چکا ہے ، اپنی سیاست میں بھی نسلی تنوع لانے کی ضرورت ہے ۔

ڈیان ایبٹ اس سال چھ مئی کو برطانیہ کی نئی پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہونےوالے ان27 اراکین میں شامل ہیں جو افریقہ ، ایشیا یا کریبئین ملکوں سے آکر یہاں آباد ہوئے ۔ نسلی اراکین کی یہ تعداد پچھلی برطانوی پارلیمنٹ سے دوگنی سے زیادہ ہے ۔اور ایسا اس بار برطانیہ کی نسلی اقلیتوں کے ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالنے سے ہوا ۔

اشوک وشواناتھن آپریشن بلیک ووٹ نامی گروپ کا حصہ ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ اس سال انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا مجموعی تناسب61 سے 65فیصد تک رہا، جبکہ سیاہ فام یا ایشیائی اقلیتوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح45سے55 فیصد تک رہی ۔ گویا برطانیہ کی سیاہ فام اور دیگر نسلی اقلیتوں میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد میں اضافہ جبکہ مجموعی طور پر ووٹ ڈالنےو الے برطانوی شہریوں کی تعداد میں کمی نظر آئی ۔

اس سال جنوری میں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں سیاہ فام نوجوانوں کی نصف تعداد بے روزگار تھی ۔جبکہ اسی عمر کے سفید فام نوجوانوں میں بے روزگاری کا تناسب20 فیصد تھا۔ وشواناتھن کہتے ہیں اسی غیر مساوی صورتحال کو توڑنے کے لئے اس بار برطانوی اقلیتوں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر ووٹ ڈالے ۔

وہ کہتے ہیں کہ اقلیتوں پر یہ واضح تھا کہ ان کی زندگی کے بہت سے معاملے ایسے ہیں جو تبھی حل ہونگے جب ان کے لوگ 2010ء کی پارلیمنٹ میں پہنچیں گے ۔

20 سالہ اینتھونی کیلو نے اس سال پہلی باربرطانوی انتخابات میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا ۔ یہ کہتے ہیں کہ نسلی اقلیتوں کے نوجوانوں کے لئے بہت اہم ہے کہ وہ اپنی اقلیتی اراکین کو برطانیہ کی پارلیمنٹ کا حصہ بنتے ہوئے دیکھیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے لئے اہم بات یہ ہے کہ کون ان جیسا لگتا ہے ۔ اگر ان کو سیاست میں دلچسپی نہیں ہے تب بھی انہیں کسی ایسے شخص کو سیاست میں دیکھنا اچھا لگے گا جو ان سے ملتا جلتا ہو۔ خواہ رنگت میں ، کلاس میں یا صنفی لحاظ سے ۔

کیلو کہتے ہیں کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں پہنچنے والے سیاہ فام اور ایشیائی اپنی اقلیتی کمیونٹیز کے لئے ایک مثال ہیں ۔

ڈیان ایبٹ کہتی ہیں کہ اگرچہ ان کی طرف سے لیبر پارٹی کی امیدواربننے کا اعلان کامیابی نہیں ہے مگر اس کی وجہ سے برطانیہ کے اقلیتی نسلوں کے نوجوانوں کوفیصلہ سازی میں شامل ہونے کا خواب ضرور ملے گا ۔

ڈیان ایبٹ اور دیگراقلیتی رہنماکہتے ہیں کہ وہ ایسے نوجوانوں کے راستے آسان کرنے ہی برطانیہ کی سیاست میں اترے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG