رسائی کے لنکس

برطانیہ جرائم پیشہ گروہوں سےنمٹنےکےلئے امریکہ کےتجربات سے فائدہ اٹھائے گا


برطانیہ جرائم پیشہ گروہوں سےنمٹنےکےلئے امریکہ کےتجربات سے فائدہ اٹھائے گا

برطانیہ جرائم پیشہ گروہوں سےنمٹنےکےلئے امریکہ کےتجربات سے فائدہ اٹھائے گا

ڈیوڈ کیمروں نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کہا وہ امریکہ کے بڑے شہروں بوسٹن، نیویارک اور لاس اینجلس سے مدد چاہیں گے جنہوں نے جرائم پیشہ گروہوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ کےایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ حکام سوشل میڈیا پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے مظاہرین آپس میں نیٹ ورک کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کو زیادہ با اختیاربنائیں گے تاکہ وہ مظاہرین کے چہروں پر سے نقاب ہٹا نے کا اختیار استعمال کر سکیں۔

برطانیہ کے مختلف شہروں میں فسادات کے بعد برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ ملک میں جرائم پیشہ گروہوں کے خاتمے کے لئے امریکہ کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔

ڈیوڈ کیمروں نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کہا وہ امریکہ کے بڑے شہروں بوسٹن، نیویارک اور لاس اینجلس سے مدد چاہیں گے جنہوں نے جرائم پیشہ گروہوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ کےایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ حکام سوشل میڈیا پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے مظاہرین آپس میں نیٹ ورک کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کو زیادہ با اختیاربنائیں گے تاکہ وہ مظاہرین کے چہروں پر سے نقاب ہٹا نے کا اختیار استعمال کر سکیں۔

وزیر اعظم کیمرون نے فسادات کے شروع میں پولیس پر نکتہ چینی کی مگر بعد میں ٕٕ انہوں نے مانا کہ توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات مختلف شہروں میں پھیلنے کی وجہ سے پولیس کے لئے ان سب سے نمٹنا مشکل ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ کچھ دنوں میں وہ لندن میں سولہ ہزار پولیس اہلکارتعینات رکھیں گے اور ضرورت پڑنے پر مدد کے لئے فوج کو بھی طلب کریں گے۔

برطانوی پولیس نے کہا ہے کہ ٕ مغربی لندن میں فسادات کے دوران زخمی ہونے والا اڑسٹھ سالہ ایک شخص ہسپتال میں انتقال کر گیا ہے۔ اس طرح فسادات اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے مظاہروں اور توڑ پھوڑ کا آغاز اس وقت ہوا جب لندن کے علاقے ٹوٹنہم میں پولیس کے ہاتھوں گولی لگنے سےایک انتیس سالہ شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ پولیس نے اب تک بارہ سو افراد کو گرفتار کیا ہے اور برطانوی عدالتیں مقدمات کو نمٹانے کے لئے دن رات کام کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG