رسائی کے لنکس

تہران میں برطانوی سفارتخانہ دوبارہ کھولا جا رہا ہے


چار سال قبل مشتعل ہجوم نے برطانوی سفارتخانے پر دھاوا بول کر اسے شدید نقصان پہنچایا تھا اور دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کم ترین سطح پر آ گئے تھے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ اتوار کو ایران میں تقریباً چار سال کے بعد تہران میں دوبارہ اپنا سفارتخانہ کھولنے جا رہے ہیں۔

یہ کسی بھی اعلیٰ ترین برطانوی سفارتکار کا 2003ء کے بعد تہران کا پہلا دورہ ہے۔

ایک بیان میں ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ اسی دوران لندن میں بھی تہران کا سفارتخانہ بھی کھولا جا رہا ہے لیکن ابتدائی طور پر یہ ناظم الامور سطح کے ہوں گے اور آئندہ آنے والے مہینوں میں یہاں سفیر تعینات کر دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری آئی ہے جن میں دو سال قبل معتدل مزاج حسن روحانی کے بطور صدر منتخب کے بعد کا دورانیہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔

"صدر روحانی کا انتخاب اور گزشتہ ماہ ہونے والا جوہری معاہدہ اہم سنگ میل ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہم مزید پیش رفت کی اہلیت رکھتے ہیں۔"

برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کے دورے میں تاجروں کا ایک وفد بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ ہے جو جوہری معاہدے کے تناظر میں ممکنہ تجارتی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کرے گا۔

چار سال قبل ایک مشتعل ہجوم نے برطانوی سفارتخانے پر حملہ کر کے اس نذر آتش کر دیا تھا۔ یہ مظاہرین ایران کے بینکاری کے شعبے پر برطانیہ کی زیر قیادت لگائی جانے والی پابندیوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ برطانوی سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔

برطانیہ کا کہنا تھا کہ سفارتی احاطے پر حملہ اس وقت کی ایرانی قیادت کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

اس واقعے کے دوران طلبا کا ایک مشتعل گروہ سفارتخانے میں داخل ہو گیا جس نے برطانوی پرچم تار تار کیا، دفاتر کو آگ لگا دی اور انیسویں صدی میں برطانوی ملکہ وکٹوریہ کی ایک تصویر کو نقصان پہنچایا تھا۔

اس واقعے کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے سفارتی مشن کو "شیطانی سفارتخانہ" قرار دیا تھا۔ لندن نے اپنے ردعمل میں سفارتی تعلقات کو انتہائی سطح تک کم کر دیا تھا جو کہ مکمل سفارتی تعلقات کے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے تھے۔

XS
SM
MD
LG