رسائی کے لنکس

ہر دوا کو شکست دینے والا سُپر بیکٹیریا دریافت


ہر دوا کو شکست دینے والا سُپر بیکٹیریا دریافت

ہر دوا کو شکست دینے والا سُپر بیکٹیریا دریافت

برطانوی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نےجنوبی ایشیا سے ایک نیا جین دریافت کیا ہے جو اپنے آپ کو بیکٹیریا کے ساتھ ڈھال لیتا ہے، جس کے باعث وہ تقریباً تمام اینٹی بایوٹکس کی مزاحمت کا حامل بن جاتا ہے۔

سائنس دانوں نے یہ بات برطانوی طبی رسالے ‘لانسیٹ’ میں چھپنے والے ایک مضمون میں کہی ہے۔

اُنھوں نے بتایا ہے کہ ‘این ڈی ایم ون’ جین ایسے 37افراد میں تشخیص ہوا ہے جو بھارت اور پاکستان میں عملِ جراحی کےبعد برطانیہ لوٹے تھے۔

یہ جین، بیکٹریا کو بدل ڈالتا ہے جِس کے باعث تقریباً ہر طرح کا علاج بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے، جِس میں آخری مرحلے میں استعمال ہونے والی مجرب دوا ‘کاربا پینےمز’ بھی شامل ہے۔

یہ جین ‘اِی کولی بیکٹیریا’ میں پایا گیا ہے۔ یہ آنتوں کا جرثومہ ہے جو پیشاب کی نالی کے انفیکشن سے متعلق ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ آسانی کے ساتھ ایک طرح کے بیکٹیریا سے دوسرا بن جانے کی خصوصیت رکھتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ، ٹِموتھی والش کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے یہ ‘سُپر بگ’ بھارت میں پہلےہی بڑے پیمانے پرگردش کر رہا ہے۔

یہ بیکٹیریا امریکہ، کینیڈا، ہالینڈ، سویڈن اور بنگلہ دیش کے مریضوں میں پایا جاتاہے۔

تحقیق کرنے والوں نے اِن نتائج کا اعلان بدھ کے روز لندن میں کیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ بیکٹیریا کے بارےمیں بین الاقوامی برادری کڑی نگرانی کے لیے مربوط انتظام کرے۔

جین کا نام، ‘این ڈی ایم ون’ سےمراد ‘نیو دہلی میٹالو بیٹا لیکٹاماس ’ہے۔

XS
SM
MD
LG