رسائی کے لنکس

برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کا ایدھی صاحب کو خراج عقیدت


’’ایک ذاتی ملاقات کے بعد مجھے اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ ان کی شخصیت میں جادو ہے وہ لوگوں کو اپنا بنانا جانتے تھے۔ وہ ایک ایسے سچے اور خودار پاکستانی تھےجنھوں نے اپنی قوم کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا تو اپنی جھولی صرف پاکستانیوں کے سامنے پھیلائی۔۔۔‘‘طارق اعوان

انسان دوست شخصیت عبدالستار ایدھی گزر گئے۔ مایہ ناز سماجی کارکن ایدھی صاحب کی مسلسل انتھک جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلیے لفظ چھوٹے پڑجاتے ہیں، میرا قلم ایدھی صاحب کی تعریف میں بہت زیادہ کچھ لکھنے سے اس لیے بھی قاصر ہےکیونکہ مجھےیاد ہےکہ ایدھی صاحب اپنی تعریف سننا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ تو بس انسانوں کی خدمت پر مامور تھے اور خود کو مسیحا کہلوانا پسند کرتے تھے۔

ایدھی صاحب کے ساتھ ایک ذاتی ملاقات کے بعد مجھے اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ ان کی شخصیت میں جادو ہے وہ لوگوں کو اپنا بنانا جانتے تھے۔ وہ ایک ایسے سچے اور خودار پاکستانی تھےجنھوں نے اپنی قوم کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا تو اپنی جھولی صرف پاکستانیوں کے سامنے پھیلائی۔ اور پھر، اس قوم نےبھی انھیں کبھی مایوس نہیں کیا اور کراچی بلاشبہ عبدالستار ایدھی کا احسان مند ہے۔

ان کے فلاحی کاموں کا دائرہ ملک سے باہر بعض دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ خدمت خلق کے اس مشن میں ان کے ساتھ لندن میں مقیم ایدھی کے رضاکار طارق اعوان بھی شامل ہیں۔ وہ برطانیہ اور یورپی ریجن کے لیے ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ایدھی صاحب ہم میں نہیں رہے اور پاکستانی قوم خود کو یتیم محسوس کر رہی ہے ان کے کارکنان پر یہ غم بہت بھاری ہے، اس کا اندازہ مجھے طارق اعوان کی بجھی بجھی آواز سننے کے بعد ہوا۔

انھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے ہیڈ آفس سے ہمیں مستقل ایدھی صاحب کی حالت کے بارے میں بتایا جارہا تھا اور کل جب ان کے انتقال کی خبر آئی ہم سب کے لیے یہ ایک بڑا صدمہ تھا کہ ہم نے ایدھی صاحب کو کھو دیا ہے اور بحثیت قوم ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہم ایک انسان دوست ہستی سےمحروم ہوگئے ہیں۔ ہمیں کل رات دیر گئے تک لوگوں کی تعزیتی کالیں موصول ہوئی ہیں جو ایدھی صحب کو یاد کرتے ہوئے رو رہے تھے۔

طارق اعوان عبدالستار ایدھی کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے

طارق اعوان عبدالستار ایدھی کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے

ایدھی صاحب کے ساتھ میرا گہرا رشتہ تھا۔ ان کے قریبی لوگ جانتے ہیں کہ میں ایدھی صاحب کے سماجی کارکنوں میں سے ان کا ایک پسندیدہ آدمی تھا اور جب 2013 میں میری ان کے ساتھ ملاقات ہوئی تو ہم نے ایک ساتھ فرش پر بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔ میرے لیے ان کی یادیں سرمایہ ہیں۔حال ہی میں جب 16 مئی کو کراچی میں میری ان کے ساتھ آخری ملاقات ہوئی تو انھوں نے مجھے پہچان لیا اور نام لے کر مخاطب کیا جس پر بلقیس ایدھی صاحبہ نے مجھے بتایا کہ آپ خوش قسمت ہیں ورنہ وہ اس حالت میں کم لوگوں کو پہچانتے ہیں۔

طارق اعوان کہتے جارہے تھے کہ ان کے جنازے کو گن کیرئیر پر لے جایا گیا یہ ریاست کے اعلی ترین عہدیدار کی تدفین کے موقع پر اپنایا جانے والا برٹش رائل آرٹلری کا طریقہ کار تھا۔ پاکستان میں ایدھی صاحب پہلے سویلین شخصیت ہیں جنھیں اعلیٰ ترین فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایدھی صاحب نے جو ذمہ داری ہم پر ڈالی اسے اللہ کی مدد سے پورا کریں گے۔ ایدھی صاحب نے اپنی نیند، سکون، چین و آرام سب کچھ قوم پر قربان کر دیا۔ ان سے بہترین شخص اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ تاہم، فیصل ایدھی بچپن سے اپنے والد کے ساتھ سماجی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں وہ کافی عرصے سے ایدھی صاحب کی ہدایت کے مطابق مکمل طور پر ایدھی فاونڈیشن کا کام سنبھال رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہ مشن اسی طرح چلتا رہے گا۔

معروف پاکستانی نژاد برطانوی صحافی اور ’پاکستان اچیومنٹ ایورڈز یوکے‘ کے چیرمین عطا الحق نے تین ہفتے قبل ’چینج ڈاٹ اورگ‘ کے ویب سائٹ پر 'نیو اسلام آباد ائیر پورٹ ٹو بی نیمڈ ایز ایدھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ اسلام آباد' کے نام سے ایک آن لائن دستخطی مہم کا آغاز کیا ہےجس میں انھوں نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف سے اسلام آباد کے نئے ہوائی اڈے کو 'عبدالستار ایدھی' کا نام دینے کی درخواست کی ہےجس پر سینکڑوں برطانوی پاکستانیوں نےاپنے دستخط کئے ہیں۔

عطا الحق عبدالستار ایدھی کے ساتھ

عطا الحق عبدالستار ایدھی کے ساتھ

اس کے علاوہ ان کی کاوشوں سے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک درخواست جمع کرائی گئی جس میں حکومت سے برطانیہ کی کسی بھی شاہراہ کو ایدھی کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایدھی صاحب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عطا الحق نے کہا کہ ہمارے لیے وہ ایک مثال قائم کر گئے ہیں کہ کیسے صرف دو جوڑے کپڑے اور ایک پھٹے پرانےجوتے میں بھی قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ انھوں نے تو دنیا سے رخصت ہونے پر اپنی آنکھیں کسی نابینا کو تحفے میں دی ہیں۔ کیا یہ انسانیت کی معراج نہیں۔

اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں ایدھی صاحب کے لیے ایک انٹرنیشنل لیول پر فنڈ ریزنگ کا انعقاد کرنا چاہتا تھا۔ لیکن، اس بات کےجواب میں وہ بڑی انکساری کے ساتھ اتنا ہی کہتے تھے کہ میں پاکستانیوں کے علاوہ کسی کی امداد قبول نہیں کرتا۔ اسی طرح میں نے ان سےدرخواست کی تھی کہ میں ان کی زندگی پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں جس پر انھوں نے انتہائی سادگی سے جواب دیا کہ کتاب تو بڑے لوگوں پر لکھی جاتی ہے ۔کتاب کے لیے تو قد اور کام بڑا ہونا چاہیئے۔

عطا صاحب نے بتایا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ 2011میں ہم نے ایدھی صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں یوکے اچیومنٹ ایوارڈز کا 'ستارہ پاکستان ایوارڈ ' سے نوازا تھا۔

انھوں نے بحثیت پاکستانی یہ پیغام دیا کہ اگر ہم ایدھی صاحب کو واقعی خراج عقیدت پیش کرنا مقصود ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ایدھی کے مشن میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایدھی صاحب کے جانے کے بعد بلقیس ایدھی اور فیصل ایدھی کو ہمارے تعاون اور مالی امداد کی زیادہ ضرورت ہوگی۔

XS
SM
MD
LG