رسائی کے لنکس

یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ، کیمرون کا مستعفی ہونے کا اعلان


برطانوی وزیر اعظم میڈیا سے بات کر رہے ہیں جب کہ ان کی اہلیہ بھی یہیں موجود ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم میڈیا سے بات کر رہے ہیں جب کہ ان کی اہلیہ بھی یہیں موجود ہیں۔

لندن میں اپنی سرکاری رہائش گاہ ’’10 ڈاؤننگ سٹریٹ‘‘ پر میڈیا کے سامنے اپنے ایک بیان میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ کو ایک نئے وزیراعظم کی ضرورت ہے اور وہ اکتوبر میں اپنا منصب چھوڑ دیں گے۔

ایک تاریخی ریفرنڈم میں برطانیہ کے عوام کی طرف سے یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں فیصلہ دینے کے بعد ملک کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنا منصب چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لندن میں اپنی سرکاری رہائش گاہ ’’10 ڈاؤننگ سٹریٹ‘‘ پر میڈیا کے سامنے اپنے ایک بیان میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ کو ایک نئے وزیراعظم کی ضرورت ہے اور وہ اکتوبر میں اپنا منصب چھوڑ دیں گے۔

"برطانیہ کے لوگوں نے واضح طور پر ایک مختلف راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور میرے خیال میں ملک کو ایک نئے وزیراعظم کی ضرورت ہے جو اس سمت میں چل سکے۔"

عوام کی اکثریت نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

جمعرات کو ہونے والے ریفرنڈم میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جمعہ کو سامنے آنے والے نتائج کے مطابق علیحدگی کے حق میں 51.89 فیصد ووٹ آئے جب کہ یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں دیے گئے ووٹوں کی شرح 48 فیصد کے قریب رہی۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ وہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں نہیں تھے لیکن اُن کے بقول برطانیہ یورپی یونین کے بغیر رہ سکتا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ عوام نے اُس موقف کی مخالفت کی ہے جس کہ وہ حامی تھے، تو ایسی صورت میں یہ مناسب نہیں کہ وہ ملک کی قیادت کریں۔

یونین میں شامل رہنے والے نتائج سے افسردہ دکھائی دے رہے ہیں

یونین میں شامل رہنے والے نتائج سے افسردہ دکھائی دے رہے ہیں

نتائج کے سامنے آنے کے بعد یونین سے نکلنے کے حامی پرجوش انداز میں سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے موقف کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا۔

بعض افراد وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب سے گزرتے ہوئے اپنے گاڑیوں کی ہارن بھی بجاتے رہے۔

"لیوو" یا یونین چھوڑنے کی مہم نے مجموعی طور پر ملک بھر سے 17,410,742ووٹ حاصل کیے جب کہ اس کے مقابلے میں "ان" یا یونین میں رہنے کے حق میں 16,141241 ووٹ ڈالے گئے۔

ریفرنڈم کا پہلا نتیجہ جبرالٹر سے سامنے آیا جہاں زیادہ تر ووٹ یورپی یونین میں رہنے کی حمایت میں ڈالے گئے تھے۔

ملک کے باقی حصوں خاص طور پر شمال مشرقی انگلینڈ اور مڈلینڈز میں ووٹروں کی اکثریت نے یونین سے نکلنےکے حق میں ووٹ ڈالے جب کہ اس کے مقابلے میں شمالی آئر لینڈ، اسکاٹ لینڈ اور دارالحکومت لندن میں یورپی اتحاد کی حمایت زیادہ مضبوط تھی۔

حسب توقع اسکاٹ لینڈ میں یورپی اتحاد کی حمایت میں زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی تمام 32 مقامی کونسلوں میں یورپی یونین اتحاد کے حامیوں کو فتح حاصل ہوئی ہے۔

دوسری جانب یورپی اتحاد کو خیر باد کہنے سے برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ کے مستقبل کے بارے میں بھی شک وشبہات پیدا ہوئے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹرجن نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین کے لیے اسکاٹ لینڈ کا ووٹ یہ واضح کرتا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یورپی یونین کے رکن کے طور پر اپنا مستقبل دیکھتا ہے۔

ویلز سے آنے والے نتائج کے مطابق ویلز کی کل 22 مقامی کونسلوں میں سے 18 کے نتائج یونین سے نکلنے والوں کی سبقت کو ظاہر کیا ہے۔

لندن میں بھاری اکثریت سے یونین میں رہنے کے لیے ووٹ ڈالے گئے

ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح کو بھی تاریخی قرار دیا جا رہا ہے جس میں ماضی کے مقابلے میں رائے دہندگان کی زیادہ تعداد شریک ہوئی۔

یورپی یونین سے نکلنے کے حامی اپنی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں

یورپی یونین سے نکلنے کے حامی اپنی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں

یورپی یونین میں رہنے یا اس سے علیحدہ ہونے کے سوال پر کروایا گیا ریفرنڈم برطانیہ کے اقتصادی مستقبل، خودمختاری و سلامتی اور امیگریشن کے نظام کے حوالے سے خاصا اہمیت کا حامل تھا۔

برطانیہ کے انتخابی کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 72.2 فیصد بتائی۔

علیحدگی کی حامی مہم کے رہنما نائیجل فراج پہلے ہی یہ کہہ کر فتح کا اعلان کر چکے تھے کہ 23 جون برطانوی تاریخ میں "یوم آزادی" ہوگا اور اںھوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

ادھر پاؤنڈ کی قدر میں پانچ فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے جب کہ ایشیائی بازار حصص میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوا اور اپنے مقررہ وقت پر رات دس بجے مکمل ہو گیا۔

جنوبی انگلینڈ میں شدید بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث بہت سے لوگوں کو پولنگ اسٹیشن پہنچنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ لندن کے دو پولنگ اسٹیشنز کو سیلاب کے باعث کسی اور مقام پر منتقل کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG