رسائی کے لنکس

ڈچ وزیر خارجہ برٹ کوئندرس نے کہا کہ برطانیہ کا بینیفٹ سسٹم جزوی طور پر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی شکست اور ان کے استعفے کے لیے ذمہ دار ہے جو تارکین وطن کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

برطانیہ یورپ سے کیوں الگ ہونا چاہتا تھا؟ اس بحث میں ایک بات بالکل واضح ہے کہ بریگزٹ یا یورپی یونین سے برطانیہ کے ایگزٹ کی مہم کے دوران لوگوں میں تارکین وطن کا خوف پیدا کیا گیا اور یورپی یونین کی نرم مہاجر پالیسی کو برطانیہ میں تارکین وطن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

لیکن کیا تارکین وطن کی تعداد کا مسئلہ بریگزٹ کی بنیاد بنا ہے اس حوالے سے ڈچ وزیر کی رائے مختلف ہے۔

ڈچ وزیر خارجہ برٹ کوئندرس نے برطانیہ کے فلاحی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بریگزٹ کا ذمہ دار یورپ نہیں ہے بلکہ برطانیہ کا فلاحی نظام اس کے لیے ذمہ دار ہے جو یورپی تارکین وطن کو انتہائی پرکشش دکھائی دیتا ہے۔

کوئندرس نے کہا کہ برطانیہ کا بینیفٹ سسٹم جزوی طور پر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی شکست اور ان کے استعفے کے لیے ذمہ دار ہے، جو تارکین وطن کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد اس اتحاد کے چھ بانی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی طرف سے ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔

اجلاس کے اختتام پر ڈچ وزیر خارجہ برٹ کوئندرس نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ آپ کم کماتے ہوں لیکن تارکین وطن آپ سے زیادہ کمائیں گے،" یہ چیز بہت سے تارکین وطن کو برطانیہ منتقلی کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اس میں یورپ کا قصور نہیں ہے بلکہ آپ کے داخلی قوانین و ضوابط اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔

ڈچ وزیر کا تبصرہ جرمن چانسلر آنگیلا مرخیل کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کی بحث کے لیے مذاکرات کے دوران ناگوار باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ برطانیہ کو یورپی یونین چھوڑنے سے متعلق نوٹیفیکیشن فراہم کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے لیکن ساتھ ہی یہ واضح کیا تھا کہ یہ معاملہ لندن کے ہاتھ میں ہے۔

XS
SM
MD
LG