رسائی کے لنکس

گذشتہ برس کے مارچ کے مقابلے میں اس برس درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے اور یہ برطانیہ کی تاریخ کا سرد ترین مارچ ہے۔

برفانی طوفان، شدید بارشیں، تیز رفتار ہواؤں کے جھکڑ اور انتہائی سرد موسم نے برطانیہ کو گزشتہ شب سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

جبکہ برطانوی محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ موسم کی یہ شدت آئندہ ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔
جمعہ کے روز سے شروع ہونے والے برفانی طوفان کے باعث برطانیہ کے شمالی حصے اور جنوبی مغربی حصوں میں اب تک 8 انچ برف برف پڑ چکی ہے۔ خصوصا 'یورک شائر' کا علاقہ نسبتا زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں شیفیلڈ، لیڈز، بریڈ فورڈ اور لیور پول کے شہروں میں شدید برفباری کے باعث سینکڑوں اسکولوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ' لیڈز 'اور' لیورپول' کے ائر پورٹس بھی موسم کی خرابی کے باعث بند کر دئیے گئے تھے۔
اُدھر برمنگھم میں برف پگھلنے کے باعث کئی شاہراہوں پر سیلاب کا پانی کھڑا ہو گیا ہے۔ برطانیہ کے شہروں کو ملانے والی اہم ہائی ویز اور سینکڑوں شاہراہوں پربرفانی طوفان کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
برطانیہ کے شمالی حصوں، والز اور یورک شائر میں واقع ایک لاکھ گھروں میں بجلی کا نظام منقطع ہے۔ کارنوال میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک گھر گر کر تباہ ہو گیا ہے جس سے ایک باسٹھ سالہ خاتون ہلاک ہو گئی۔
محکمہ ِموسمیات کی جانب سے برطانیہ کے جنوب مغربی علاقوں کے لیے نوے سے زائد سیلاب کے خطرے کی وارننگ جاری کی گئی ہیں۔
اُدھر لندن بھی اس برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہے جہاں وقفے وقفے سے برفباری، اولوں اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ تیز ہواؤں کے ساتھ ساتھ منفی درجہ ِحرارت کی وجہ سے کاروبار بند ہیں اور شاہراہوں پرٹریفک بھی کم کم دکھائی دے رہا ہے۔
محکمہ ِموسمیات کے ایک ماہر جان لی کے مطابق، ’’ گذشتہ 50 برسوں میں اب تک برطانیہ نے کوئی ایسا مارچ کا مہینہ نہیں دیکھا تھا جس میں درجہ حرارت منفی تک جا پہنچا ہو‘‘۔
گذشتہ برس کے مارچ کے مقابلے میں اس برس درجہ ِحرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے اور یہ برطانیہ کی تاریخ کا سرد ترین مارچ ہے۔
ماہرین موسمیات نے آئندہ ہفتے یعنی ایسٹر کے تہوار تک شدید موسم برقرار رہنے کی پیشن گوئی کی ہے۔
برفانی طوفانی کا یہ سلسلہ دراصل روس کی جانب سے اٹھا ہے جبکہ مشرقی یورپ سے چلنے والی سرد ہواؤں کے باعث پورے برطانیہ میں درجہ حرارت مزید گر جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔
گذشتہ شب برطانوی اخباروں نے اس خبر کو شہ سرخیوں میں جگہ دی کہ برطانیہ کے پاس موجود گیس کے ذخائر صرف 36 گھنٹے تک کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔
لیکن آج صبح حکومت اور گیس کمپنی کی جانب سے اس خبر کو غلط قرار دیا گیا ہے کہ حکومت کو گیس کی فوری کمی کا سامنا ہے جس کے لیے اسے گیس درآمد کرنی پڑے گی ۔
برطانیہ میں موسم ِسرما میں گھریلو صارفین کی جانب سےگیس کی طلب بڑھ جاتی ہے جو مارچ کے مہینے میں نسبتا خاصی کم ہو جاتی ہے مگر اس برس مارچ کے مہینے میں بھی گھریلو صارفین کے گھر کے ہیٹر آن ہیں جس کی وجہ سے معمول سے ذیادہ گیس استعمال کی جا رہی ہے ۔
برطانوی معیشت سے وابستہ ماہرین اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ حکومت کو جلد از جلد اس صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں یا صارفین سے کم سے کم گیس استعمال کرنے کے لیے درخواست کرنی چاہیے ۔ورنہ مستقبل میں توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG