رسائی کے لنکس

تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیمو کریٹ کی جانب سے ایشین اور سیاہ فام امیدواروں کی تعداد بالترتیب 11 فیصد، 9 فیصد اور 10 فیصد ہے

برطانیہ میں معمولاً ہر پانچ سال بعد پارلیمنٹ ختم کر دی جاتی ہے اور از سر نو انتخابات عمل میں لائے جاتے ہیں۔

2015ء میں بنائی جانے والی 56 ویں برطانوی پارلیمان کے اہم اعداد و شمار کا ذکر ذیل میں درج ہے:

برطانوی پارلیمنٹ میں مجموعی نشستوں کی تعداد 650 ہے، جس پر2015 کے عام انتخابات میں برطانیہ بھر سے 3,971 امیدورا حصہ لے رہے ہیں۔

پارلیمانی نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد امیدواروں کا تناسب سب سے زیادہ حکمران جماعت کنزرویٹو کے پاس ہے، جس کے 648 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ کی لیبر پارٹی نے 631، نائجل فراج کی یو کے انڈیپینڈنٹ پارٹی نے 624 اور نائب وزیر اعظم نک کلیگ کی لبرل ڈیمو کریٹ نے 631 امیدواروں کو نامزد کئے ہیں۔

چھوٹی سیاسی جماعتوں سے گرین پارٹی کے 573، اسکاٹش نیشنل پارٹی یا ایس این پی کے59 ، پلائڈ کمری، کے 40 اور برٹش نیشنل پارٹی کے 8 امیدواروں کے علاوہ چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے 747 امیدوار شامل ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں خواتین امیدواروں کی نمائندگی

2011 مردم شماری کے اعداوشمار بتاتے ہیں کہ برطانوی آبادی کا 52 فیصد خواتین پر مشتعمل ہےجبکہ پچھلی پارلیمنٹ میں مجموعی طور پرخواتین اراکین کی تعداد 143 تھی جو مجموعی ارکان پارلیمنٹ کا تقریبا 22 فیصدکے برابر تھی۔

تاہم، 2010ء کے عام انتخابات میں تعداد اور تناسب کے حوالے سے خواتین امیدواروں کی ریکارڈ تعداد حصہ لے رہی ہے، جن کی تعداد 2010 کے عام انتخابات 854 (21.1) خواتین امیدواروں کے مقابلے میں 26.1)1,020 ) ہوگئی ہے۔

تجزیہ کاروں کی سیاسی پیشن گوئیاں بتاتی ہیں کہ حالیہ انتخابی اصلاحات کے ساتھ اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ نئی پارلیمنٹ میں 30 فیصد خواتین اراکین کو نمائندگی حاصل ہو سکتی ہے۔

برطانیہ کی خاتون رہنماؤں کی سیاسی جماعتوں میں خواتین امیدواروں کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ نیٹالی بینیٹ کی سیاسی جماعت گرین پارٹی میں خواتین امیدواروں کے تناسب دیگر تمام جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، جس کی37.5 امیدوار خواتین ہیں، اسی طرح ایس این پی کی طرف سے خواتین امیدواروں کا تناسب 35.6 ہے۔

ایشیائی خواتین امیدواروں کا تناسب

2015ء حالیہ انتخابات میں جہاں خواتین امیدواروں کی بڑی تعداد میدان میں اتری ہے، وہیں ایشیائی خواتین امیدوار بھی کافی تعداد میں مختلف جماعتوں کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیمو کریٹ کی جانب سے ایشین اور سیاہ فام امیدواروں کی تعداد بالترتیب 11 فیصد، نو فیصد اور 11 فیصد ہے۔

دارالحکومت لندن سے سب سے بڑی تعداد 30.4 فیصدخواتین امیداوار نامزد ہیں جہاں کے دو حلقوں کو تارکین وطن کا گڑھ بتایا جاتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق، لندن میں ہر 10 میں سے ایک ووٹر کی پیدائش برطانیہ کی نہیں ہے اور ایسے ووٹروں کی مجموعی تعداد 40 لاکھ کے قریب ہے جن میں زیادہ تر بھارتی، بنگلہ دیشی اور پاکستانی شامل ہیں۔

لیبر پارٹی کی خواتین امیدوار

2010 سے 2015 کی پارلیمنٹ میں لیبرکی 256 نشستوں میں سے 87 نشستوں پرخاتون ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئی تھیں۔

اس مرتبہ بھی لیبر پارٹی کو دیگر بڑی جماعتوں کے مقابلے میں خواتین امیدواروں کے انتخاب میں سبقت حاصل ہے ۔جس نے 34.1 فیصد نشستوں پرخاتون امیدواروں کو نامزد کیا ہے ۔

لیبر کی طرف سے ہدف نشستوں پر نشستوں پر 50 فیصد مرد اور 56 فیصد خواتین امیدواروں کوکھڑا کیا گیا ہے ۔

لیبر کی خواتین امیدواروں کو سب سے بڑی کامیابی 1997 کے عام انتخابات میں حاصل ہوئی تھی جب پارٹی کی حمایت میں 40 فیصد خواتین نے اپنے ووٹ ڈالے تھے اور 120 خواتین کی ریکارڈ تعداد ارکان پارلمنٹ منتخب ہوئی تھی۔

کنزرویٹو پارٹی کی خواتین امیدوار

موجودہ انتخابات میں کنزرویٹیو کی طرف سے 26.1 فیصد نشستوں پرخاتون امیدوار نامزد کی گئی ہیں۔

کنزرویٹیو نے اپنی اہم نشستوں پر 20 فیصد خواتین اور 60 فیصد مرد امیدواروں کو کھڑا کیا ہے جبکہ پچھلی حکومت میں ان کی جماعت کے 302 اراکین پارلیمنٹ میں سے خواتین کی تعداد 48 تھی۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ2010 ء کے انتخابات میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جیت میں خواتین ووٹرزکا بڑا ہاتھ تھا، جنھوں نےسابقہ حکمراں جماعت لیبر سے ناامید ہونے کےبعد ٹوریز کی حمایت میں ووٹ ڈالے تھے۔

حکمراں جماعت ٹوری کی جانب سے اس الیکشن میں ریکارڈ امیدوار خواتین نامزد کرنےکا دعوی کیا گیا ہے۔ لیکن، ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون اگر نئی پارلیمان کی 302 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لیتے ہیں، تو بھی ان کی جماعت میں خواتین اراکین کی تعدا 70 ہوگی، جو خواتین کی صرف 20 فیصد شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔

لبرل ڈیمو کریٹ کی خواتین امیدوار

ملک کی تیسری بڑی جماعت لبرل ڈیمو کریٹ نے 26.3 فیصد نشستوں پرخواتین امیدواروں کو نامزد کیا ہے۔

نائب وزیر اعظم نک کلیگ کی جماعت لبرل ڈیمو کریٹ کی پچھلی پارلیمنٹ میں مجموعی اراکین پارلیمنٹ 56 میں سے خواتین اراکین کی تعداد صرف سات تھی۔

نائجل فراج کی یوکپ نے 12 فیصد نشستوں پر خواتین امیدواروں کو نامزد کیا ہے اسی طرح ویلش سیاسی جماعت پلائڈ کمری میں 25 فیصد خواتین امیدوار ہیں۔

XS
SM
MD
LG