رسائی کے لنکس

ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر برطانوی وزیر مستعفی


ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر برطانوی وزیر مستعفی

ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر برطانوی وزیر مستعفی

کئی برس قبل تیز رفتاری کے باعث کیے گئے چالان سے بچنے کے لیے غلط بیانی سے کام لینے کے الزام میں قانونی کاروائی کا سامنا کرنے والے برطانیہ کے وزیرِ توانائی کرس ہون اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ کے محکمہ استغاثہ کے ڈائریکٹر کیر اسٹارمر نے جمعے کو اعلان کیا کہ ہون اور ان کی سابق اہلیہ وکی پرائس کے خلاف 2003ء میں کی گئی ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کے ایک واقعے کے تناظر میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں عدالتی کاروائی کا آغاز کیا جارہا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ حکام نے 2003ء میں ہون کو تیز رفتاری کے الزام میں چالان کے لیے روکا تھا تاہم انہوں نے اپنے ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی سے بچنے کے لیے حکام کو بتایا تھا کہ گاڑی وہ نہیں بلکہ ان کی اہلیہ چلارہی تھیں۔

الزامات کے مطابق ہون کی اہلیہ نے بھی حکام کے روبرو غلط بیانی کرتے ہوئے اپنے شوہر کے اس بیان کی تصدیق کی تھی کہ تیزرفتاری کے وقت ڈرائیونگ سیٹ پر وہ موجود تھیں۔

ہون برطانوی سیاسی جماعت 'لبرل ڈیموکریٹ' کے سینئر رکن ہیں اور انہوں نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں اپنا جارحانہ دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ہون کی جماعت 2010ء میں 'کنزرویٹوز' کی سربراہی میں قائم ہونے والی اتحادی حکومت میں شامل ہے۔

وزیرِ توانائی کے طور پر ہون نے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں دسمبر میں ہونے والے ان بین الاقوامی ماحولیاتی مذاکرات میں اہم کردار اداکیا تھا جن میں گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں کٹوتیوں پر اتفاق ہوا تھا۔

ہون 'لبرل ڈیموکریٹ' سے تعلق رکھنے والے دوسرے وزیر ہیں جنہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا ہے اور ان کے استعفی کو اتحادی حکومت کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔

ان کی جگہ ان ہی کی جماعت کے رہنما ایڈ ڈیوی نئے وزیرِ توانائی ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG