رسائی کے لنکس

لندن ہائی کورٹ کی طرف سے مرنڈا کی گرفتاری جائز قرار


فائل

فائل

ہائی کورٹ نے بدھ کے روز فیصلہ دیا کہ ڈیوڈ مرانڈا کی حراست اور پوچھ گچھ، ’نہ صرف جائز ، بلکہ ضروری تھی‘۔ ڈیوڈ مرنڈا، صحافی گلین گرین والڈ کے ساتھی ہیں

برطانیہ کی عدالتِ عالیہ نے گذشتہ سال لندن میں ایک شخص کوحراست میں لینے کے اقدام کو جائز قرار دیا ہے، جن کے پاس وہ کلاسیفائیڈ دستاویزات موجود تھیں جنھیں امریکی قومی سلامتی کے ادارے کے ایک سابق اہل کار، ایڈورڈ سنوڈن نے افشا کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے بدھ کے روز فیصلہ دیا کہ ڈیوڈ مرانڈا کی حراست اور پوچھ گچھ، ’نہ صرف جائز ، بلکہ ضروری تھی‘۔ ڈیوڈ مرنڈا، صحافی گلین گرین والڈ کے ساتھی ہیں۔

گذشتہ اگست میں مرنڈا کو ہیتھرو ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا تھا، جہاں اُن کے پاس سے تقریباً 60،000خفیہ دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔

اُن سے تقریباً نو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

مرانڈا اور گرین والڈ کے وکلا نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ حکومت کی طرف سے دہشت گردی سے متعلق قوانین کا استعمال ناجائز ہے، اور یہ کہ ایسا کرنا مرنڈا کے اظہار کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

سنوڈن نے ہزاروں خفیہ دستاویزات گرین والڈ کے حوالے کی تھیں، تاکہ اِنھیں اخبار ’دِی گارڈین‘ کے مضامین میں شائع کیا جائے۔

گرین والڈ کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ برطانیہ کے اِن اقدامات کے نتیجے میں دیگر صحافتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ’دِی گارڈین‘ نے مرانڈا کے وکیل کے حوالے سے کہا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں تجزیائی صحافت کی گنجائش کم رہ جاتی ہے، جن میں قومی سلامتی کے معاملات پر طبع آزمائی کی جائے۔

یہ بات واضح نہیں ہوئی آیا بدھ کے اس فیصلے کے خلاف مرنڈا کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔
XS
SM
MD
LG