رسائی کے لنکس

برطانوی اسپتالوں میں مسلمان خواتین کے لیے 'باوقار گاؤن' متعارف


این ایچ ایس کے دو اسپتال 'رائل بورن ماؤتھ' اور 'کرائسٹ چرچ اسپتال' نے کہا کہ اسپتالوں کے نئے باوقار گاؤن کو مسلمان خواتین کی شکایات دور کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے اسپتالوں میں مسلمان خواتین مریضوں کو نئے باوقار گاؤن کی پیشکش کی جا رہی ہے جسے مسلمان خواتین کی شکایات کے بعد اس ہفتے باضابطہ طور پر مریضوں کی نئی پوشاک کے طور متعارف کرایا گیا ہے۔

اسپتال ٹرسٹ کی طرف سے مریضوں کے اس نئے گاؤن کو 'کثیر العقائد باوقار گاؤن' کا نام دیا گیا ہے یہ خاص گاؤن ان خواتین کے لیے ہو گا جو مذہبی وجوہات کی بنا پر اسپتال میں مریضوں کی روایتی پوشاک پہننا پسند نہیں کرتی ہیں۔

این ایچ ایس کے دو اسپتال 'رائل بورن ماؤتھ' اور 'کرائسٹ چرچ اسپتال' نے کہا کہ اسپتالوں کے نئے باوقار گاؤن کو مسلمان خواتین کی شکایات دور کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

تاہم کہا گیا ہے کہ مریضوں کی یہ نئی باوقار پوشاک ہندو، آرتھوڈکس، یہودی اور راستافاری مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے بھی موزوں ہوں گی۔

اسپتال کا کہنا ہے کہ اس باوقار گاؤن کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ طبی عملے کو مریضہ کے علاج یا دیکھ بھال میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔

مریضوں کی اس نئی پوشاک میں چہرے کے لیے نقاب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ سر کے دو اسکارف اور کمر پر باندھنے کے لیے ایک بیلٹ بھی موجود ہے جسے ایک ڈھیلے ڈھالے پاجامے کے ساتھ پہنا جائے گا۔

اسپتال کے پریس آفس نے روزنامہ ’برائٹ بارٹ لندن‘ کو بتایا کہ ہمارا اسپتال ٹرسٹ ہمیشہ سے اپنے مریضوں کے تجربات کی مدد سے اپنی خدمات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے اور ہمارے لیے مریضوں کی آراء بہت اہم ہیں۔

مریضوں کی مشغولیت کے شعبے کی مینجر سومیلر نے کہا کہ جب ہم مسلمان خواتین کے فوکس گروپ کے ساتھ کام کر رہے تھے تو ہمیں مسلمان عورتوں کی طرف سے بہت سخت قسم کی آراء سننے کو ملیں جن میں بتایا گیا کہ مسلمان خواتین اسپتالوں کی روایتی پوشاک پہننے کے بعد خود کو کتنا بے چین اور بے آرام محسوس کرتی ہیں کیونکہ یہ پوشاک ان خواتین کو ایک ایسی صورت حال سے دوچار کرتی ہے جہاں انھیں مجبوراً اپنے عقیدے کی خلاف ورزی کرنی پڑتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنے کسی بھی مریض کے لیے اس طرح کی صورت حال نہیں چاہتے ہیں اس لیے ہم نے خواتین مریضوں کے لیے 'نیا بین العقائد باوقار گاؤن' متعارف کرا دیا ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم بہت سی اقلیتوں اور عقیدوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تاکہ ہم اپنے مریضوں کی تمام ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔

مریضوں کے باوقار گاؤن کو متعارف کرانے میں اسپتال کی مدد کرنے والی نادی فوال نے کہا کہ مسلمان خواتین اپنے چہرے اور ہاتھ کے علاوہ کچھ بھی ظاہر کرنا گناہ سمجھتی ہیں لہذا اس کا مطلب ہے کہ اسپتال کی عام پوشاک ہمارے لیے غیر مناسب اور غیر آرام دہ تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اب اس نئے گاؤن کی وجہ سے مسلمان خواتین کو اس بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسپتال میں داخل ہونے والی خواتین صرف ایک درخواست پر اپنے لیے یہ باوقار گاؤن حاصل کر سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG