رسائی کے لنکس

مسلمان دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، برطانوی مسلم وزیر


مسلمان دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، برطانوی مسلم وزیر

مسلمان دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، برطانوی مسلم وزیر

برطانیہ کے پہلے مسلمان وزیر کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ دہشت گردی یا انتہا پسندی کو برا سمجھیں۔ بلکہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس رجحان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور اس کے خلاف عملی اقدامات اٹھائیں۔

برطانوی لیبر پارٹی کے رکن شاہد ملک 2005 میں ڈیوسبری سے انتخاب جیت کر پہلی دفعہ برطانوی پارلیمان کا حصّہ بنے۔ وہ برطانیہ میں پیدا ہونے والے پہلے مسلمان رکن پارلیمان تھے۔

2007 میں وہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی وزارت سنبھال کر برطانیہ کے پہلے مسلم وزیر بنے۔ اس کے بعد وہ وزیر انصاف اور ہوم آفس منسٹر کے علاوہ نسلی، مذہبی اور کمیونٹی ہم آہنگی کے وزیر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔

حال ہی میں مسٹر ملک نے وائس آف امریکہ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔

شاہد ملک کو برطانیہ میں مسلم انتہا پسندی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں ایک اہم آواز قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم نوجوانوں میں دہشت گردی کی وجہ مسلمانوں کو عالمی سطح پر درپیش مسائل نہیں بلکہ بعض عناصر کی طرف سے مذہب اسلام کی غلط تشریح ہے۔ اس لیے مسلم علماء پر لازم ہے کہ وہ مذہب کی درست ترجمانی کریں۔

2007 میں مسٹر ملک نے ہولوکاسٹ میموریل ڈے کا بائیکاٹ کرنے پر برطانیہ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم مسلم کونسل آف برطانیہ پر کڑی تنقید کی۔ ہولوکاسٹ میموریل ڈے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کی طرف سے یہودیوں کی نسل کُشی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

مسلم کونسل نے 2001 سے 2007 تک ہولوکاسٹ میموریل ڈے کی تقریب میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ جب تک فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری ہے وہ ان تقریبات کا حصّہ نہیں بنیں گے۔

البتہ مسٹر ملک کے مطابق ہولوکاسٹ مذہبی بنیادوں پر نسل کُشی کی بدترین مثال ہے اور ان تمام لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو مذہبی تعصب کے خلاف ہیں۔

2010 کے انتخابات میں نئی حلقہ بندی کے بعد مسٹر ملک ڈیوسبری سے اپنی سیٹ ہار گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG