رسائی کے لنکس

پانچ لاکھ تارکین وطن یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہیں: برطانوی عہدیدار


فائل فوٹو
فائل فوٹو

مبصرین کا کہنا ہے کہ شورش کا شکار لیبیا میں امن و عامہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے شمالی افریقہ سے آنے والے تارکین وطن کی ایک بڑی وجہ ہے۔

برطانیہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ممکنہ طور لیبیا کے تقریباً پانچ لاکھ افراد اس موسم سرما میں بہتر زندگی کی تلاش میں بحیرہ روم کے خطرناک سمندر کو پار کرنے کی کوشش کریں گے۔

برطانوی بحری جہاز ’ایچ ایم ایس بل ورک‘ کے کپتان نک کوک پریسٹ نے کہا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ لیبیا کی سرحد پر موجود تقریباً ’’450,000 سے 500,000 تارکین وطن‘‘ بحیرہ روم کے پار سفر کے لئے انتظار کر رہے ہیں۔

اتوار کو برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ایک ہیلی کاپٹر کی طرف سے اس اطلاع کے بعد کہ تارکین وطن کی چار کشتیاں مشکل میں ہیں ’بل ورک‘ (بحری جہاز) کو کم از کم 500 تارکین وطن کو بچانے کے لئے روانہ کر دیا گیا۔

اتوار کے روز ہی اطالوی کوسٹ گارڈ کے ایک بحری جہاز جس پر 316 تارکین وطن سوار ہیں لیمپڈوسا کے بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ ان تارکین وطن کو لیبیا کے ساحل کے قریب کئے گئے تین آپریشنوں کے ذریعے بچایا گیا تھا۔

اس سے قبل ہفتے کو اٹلی، برطانیہ، آئرلینڈ اور دوسرے ممالک کے بحری جہاز تقریباً 3,500 تارکین وطن کو لیبیا کے ساحلوں کے قریب سے بچا کر لائے ہیں۔

حال ہی میں بحیر روم کو ایک خطرناک سفر کے ذریعے پار کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شورش کے شکار لیبیا میں امنِ عامہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال شمالی افریقہ سے آنے والے تارکین وطن کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کئی ایک تارکین وطن کا تعلق شام، نائیجریا، مالی اور ایریٹریا سے ہے جو جنگ، سیاسی جبر اور معاشی مشکلات سے فرار حاصل کرنے کے لئے وہاں سے نقل مکانی اختیار کر رہے ہیں۔

اٹلی نے دوسرے یورپی یونین کے ممالک سے ان تارکین وطن کو عارضی پناہ گاہوں میں رکھنے کے لیے امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نقل مکانی کی بین الاقوامی تنظیم ’آئی او ایم‘ کے مطابق اس سال 80,000 سے زائد افراد نے بحیرہ روم کو پار کیا ہےجبکہ 1,800 سے زائد افراد یا تو سمندر میں ہلاک ہو گئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG