رسائی کے لنکس

تاہم، صدر اوباما کا دوسری مدت کے لیے امریکی صدر کی حیثیت سے انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ امریکی عوام ان کی جدوجہد سے واقف ہیں اور ان کی امیدیں اب امریکی صدر پر لگی ہوئی ہیں

’وہ آگیا اور چھا گیا‘۔ یہ جملہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما کی شخصیت کی سحر انگیزی نےنہ صرف امریکیوں کو بلکہ دنیاکی بیشتر قومیتوں کو ان کی بات سننے پر مجبور کیا ہے۔
سال2008 میں براک اوباما ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے نامزد صدارتی امیدوار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ انتخابی مہم کے دوران، ان کے زورِخطابت نے ساری دنیا کو چونکا دیا۔

وہ بات کر رہے تھے ’تبدیلی‘ کی، ایک پُرامن دنیا کی، مساوات پر مبنی معاشی نظام کی اور خصوصاً دنیا کے چھوٹے بڑے ہر ملک کی سلامتی اور خود مختاری کی۔

یہ وہ دور تھا جب دنیا کی نظریں امریکہ کے نئے صدر کی جانب سے بین الاقوامی پالیسی کے اعلان پر لگی ہوئی تھیں۔
جب تبدیلی کے نعرے کے ساتھ منتخب ہونے والے براک اوباما نے سال 2009میں امریکی صدر کاحلف اٹھایا تو دنیا نے انھیں اس منصب کے لیے خوش آمدید کہا۔
بحثیت امریکی صدر چار سالہ مدت گذارنے کے بعد ابھی تک وہ ان وعدوں کی تکمیل میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

ان کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، ان کا دوسری مدت کے لیے امریکی صدر کی حیثیت سے انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ امریکی عوام ان کی جدوجہد سے واقف ہیں اور ان کی امیدیں اب بھی باراک اوباماسے لگی ہوئی ہیں۔
21 جنوری کو براک اوباما نےواشنگٹن میں عوام کے جم غفیر کے سامنے امریکہ کے 44ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

اس موقع پر براک اوباما نے اپنی تقریرمیں دنیا کو اس بات کا یقین دلایا کہ عشرے پر محیط جنگ کا اب خاتمہ ہونے جارہا ہے، وہیں انھوں نے امریکی عوام کو معاشی خوش حالی کی بھی نوید سنائی۔

مجموعی طور پر ان کی اس تقریر کا عوامی سظح پر خیر مقدم کیا گیا۔
یورپ کے حوالے سے بات کی جائے تو برطانیہ کے مرکزی شہر لندن میں بسنے والی متفرق قومیتوں کی جانب سے امریکی صدر براک اوباما کی دوسری مدت کے لیے صدارتی حلف برداری کے موقع پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا۔


80 سالہ ڈورس کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ، 'نہیں۔ وہ بالکل بھی ویسا ثابت نہیں ہوا جیسا کہ اس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھا۔ دنیا میں آج بھی امن موجود نہیں ہے۔ اب تک یہ وعدے وعدے ہی نظر آتے ہیں۔ ہاں، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ایک اچھی شخسیت کا مالک ہے۔ میں آئندہ چار سالوں میں ان سے کوئی خاص توقع نہیں رکھتی۔'

25 سالہ الزبتھ ایک فلاحی تنظیم سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ، 'میں سمجھتی ہوں کہ اب تک انھوں نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ تاہم، مجھے امید ہے کہ وہ اس نئی صدارتی مدت میں اپنے ادھورے مشن کو پورا کریں گے۔ وہ ورکنگ کلاس سے ترقی کرتے ہوئے صدارت کے عہدے تک پہنچے ہیں جو بات یقیناً قابل تحسین ہے۔ صدر کا منصب بہت زیادہ ذمہ داری کا کام ہے۔ ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ ایک شخص بیک وقت تمام معاملات پر مکمل گرفت رکھ سکے۔ مجھے ان کی سادگی پسند ہے۔ میں انھیں دس میں سے پانچ نمبر دینا چاہوں گی ۔'

مس شنیٹ کے مطابق، 'امریکی سیاست کے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتی۔ مگر، امریکی صدر بحثیت ایک انسان اچھی شخصیت کے مالک ہیں۔ جس طرح انکا پیار اپنی بیوی اور بیٹیوں کے لیے نظر آتا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خاندان کی اہمیت سے واقف ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں محنت کر کے آگے بڑھے ہیں۔ اس لیے، میں انھیں دس میں سے سات نمبر دینا چاہوں گی‘۔
برٹش پاکستانی مس کامران کا کہنا ہے کہ، 'براک اوباما متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُنھوں نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بڑی محنت کی ہوگی۔ مگر، جہاں تک ملک چلانے کی بات ہے، تو تبدیلی کے نام پر اب تک کوئی خاص کارنامہ انھوں نے نہیں انجام نہیں دیا۔ امید ہے کہ آنے والے سالوں میں وہ اپنے کیے گئے تمام وعدوں کو پورا کریں گے۔ میں انھیں دس میں سے سات نمبر دینا چاہوں گی‘۔
کچھ نوجوانوں نے امریکی صدر کو مبارکباد دینے کے لیے ’چیئرز‘ کے روایتی کلمات ادا کیے۔ مگر، کی جانے والی گفتگو کو سیاسی جان کر اظہار خیال سے گریز کیا۔





XS
SM
MD
LG