رسائی کے لنکس

برطانوی نژاد پاکستانیوں کی الیکشن پر نیک خواہشات


عام انتخابات کے لیے جو جذبہ لوگوں میں نظر آرہا ہے اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس بار پاکستانی عوام اپنی تقدیر کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے گی

'گیارہ مئی ایک نئے خواب کی تعبیر کا دن ہوگا جس کی تمنا وطن عزیز سےدور بسنے والوں کے دلوں میں بھی اسی طرح موجود ہے جتنی کہ پاکستان میں رہنے والوں کے دلوں میں۔ بہتر اور خوشحال پاکستان ہم سب کی اولین چاہت اور ضرورت ہے۔' یہ الفاظ تھے ایک ایسی خاتون کے جن کا چہرہ حب الوطنی کے جذبے سے دمک رہا تھا۔ ریحانہ کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور وہ گزشتہ تیس برس سے لندن میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں۔

ریحانہ کہتی ہیں کہ، ’عام انتخابات کے لیے جو جذبہ لوگوں میں نظر آرہا ہے اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس بار پاکستانی عوام اپنی تقدیر کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے گی۔‘
برطانیہ میں برسوں سے برطانوی نژاد پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جن کے رشتے ناطوں کی ڈوریاں آج بھی اپنے ملک کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ وی او اے نے لندن میں مقیم برطانوی نژاد پاکستانیوں سے عام انتخابات سال 2013 ءکے حوالے سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی۔
بہت سے لوگوں نے وی او اے کی توسط سے اس بات کا گلہ کیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنا سراسر نا انصافی ہے۔ جبکہ، کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان جانا چاہتے تھے لیکن ان کا پاسپورٹ سفارت خانے نے اب تک واپس نہیں کیا ہے۔ تاہم، وہ جب بھی پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب سے بات کرتے ہیں تو انھیں ووٹ کے حق کو استعمال کرنے کی تاکید ضرور کرتے ہیں۔


ایک مصروف سڑک پر کھڑے چند پاکستانی دوست آپس میں الیکشن کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے، جس میں ہم بھی شریک ہو گئے۔

شفیق نے کہا کہ وہ پاکستان کے بہتر مستقبل حوالے سے پر امید ہیں۔ ان کے مطابق، ’قوم کو بلے کا سہارا مل گیا ہے۔‘
سید ابرار نے کہا کہ، 'پاکستانی عوام بہت جذباتی ہے۔ نہیں معلوم گیارہ مئی کے روز کس سیاسی جماعت کے نشان پر ٹھپہ لگا دے اور بازی پلٹ جائے۔'

جہلم سے تعلق رکھنے والی نیلم کا کہنا تھا کہ، ’مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس بار الیکشن کے نتائج وہی ہوں گے جس کی امید کی جارہی ہے، یعنی ایک مثبت سمت کی طرف یہ ہمارا پہلا قدم ہو گا۔‘

جہلم سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان شعیب کا کہنا تھا کہ، ’ہمارا خاندان شروع ہی سے ایک سیاسی جماعت کو ووٹ ڈالتا آیا ہے۔ لیکن میں اپنے گھر والوں کو راضی کر رہا ہوں کہ امیداوار کو نہ دیکھو، بلکہ اسے ووٹ دو جو پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔ سوچ تو بدل چکی ہے اب تو نتائج آنے کی دیر ہے۔‘

ایک اور نوجوان محمد علی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں اس بار نئی قیادت کو موقع دینا چاہیے، کیونکہ ہم باقیوں کو آزما ہی چکے ہیں، تو انھیں بھی ایک موقع دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ممکن ہے کہ نتیجہ وہی نکلے جس کی ہم سب کو خواہش ہے۔ اگرچہ، اس تبدیلی کے عمل میں ہمیں حصہ دار نہیں بنایا گیا، لیکن پاکستانی عوام کا جذبہ دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بہت جلد پاکستان اپنا کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل کر لے گا۔
مسز نثار کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد تو آج بھی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے حق میں ہیں لیکن بہنوں اور ان کے بچوں سے جب بھی بات ہوتی ہے تو وہ پاکستانی سیاست میں آنے والی نئی سوچ کی حمایت کرتے ہیں۔ گویا نظریات کی جنگ بہت سے گھروں میں شروع ہو چکی ہے۔
ثمینہ کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ ان کے خیال میں، ’مجھے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دیئے جانے کی شکایت نہیں ہے، کیونکہ وہاں کے لوگ اپنے نمائندوں کو زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں یہ ان کا ہی حق ہے۔‘
غرض الیکشن 2013 ءکے حوالے سے برطانوی نژاد پاکستانیوں میں بھی امیدوں، قیاس آرائیوں اور پیشن گوئیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

​گذشتہ 65 سالوں میں پاکستانی عوام کو گیارہویں بار حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

ایک جمہوری حکومت اپنی میعاد مکمل کر چکی ہے اور نئی جمہوری حکومت ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی۔

ایسے میں پاکستان کی کمزور عوام کے ہاتھوں میں پاکستان کی ازسرنو تعمیر کا کام سونپا گیا ہے۔ لیکن دوسری جانب الیکشن کی مہم کے دوران دہشت گردی کے واقعات نے ایک خوف کا سا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال کہیں نہ کہیں سبھی کے ذہنوں میں موجود ہے کہ کیا الیکشن کے روز ووٹرز اس خوف کو شکست دے کر پولنگ بوتھ تک جائیں گے بھی یا نہیں؟
XS
SM
MD
LG