رسائی کے لنکس

برطانوی پارلیمان کی کمیٹی کا طالبان سےبرائے راست بات چیت شروع کرنے پر زور

  • عادل زیب

برطانوی پارلیمان کی کمیٹی کا طالبان سےبرائے راست بات چیت شروع کرنے پر زور

برطانوی پارلیمان کی کمیٹی کا طالبان سےبرائے راست بات چیت شروع کرنے پر زور

برطانوی پارلیمان کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ نے طالبان سے برائے راست بات چیت شروع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں سیاسی عمل اور مذاکرات شروع کرنا قیامِ امن کے لیے اہمیت کا باعث ہے۔

ہاؤس آف کامنزکی فارین افیئرزکمیٹی کی جانب سےایک رپورٹ میں افغانستان میں جاری شورش کو ایک سیاسی مسئلہ بتاتے ہوئے اِن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگرطالبان سےمذاکرات جلد از جلد شروع نہیں کیےگئے تو نیٹو کی ملٹری کارروائی ناکام ہوسکتی ہے۔

امورِ خارجہ کمیٹی کےچیرمین اورحکمراں کنزرویٹو پارٹی کےسینئررہنما رچرڈ اوٹاوے نے رپورٹ میں امریکہ اور برطانیہ دونوں کو طالبان اور القاعدہ کے درمیان فرق کو واضح کرنے کا مشورہ دیا ہےاور کہا ہے کہ بحالیٴ امن کے لیے ضروری ہے کہ اِن نکات کو نظراندازنہ کیا جائے۔

برطانوی میڈیا نے صدر حامد کرزئی کے دورہٴ برطانیہ کے موقع پر رپورٹ کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ ایک عرصے سے افغانستان کا سکاسی حل نکالنے کی تجاویز پر بات چیت کرتے آئے ہیں۔برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی حال ہی میں افغان صدر کے ساتھ ملاقات میں رواں سال جنگجوؤں سے مذاکرات میں پیش رفت پر زور دیا تھا۔

کیمرون کے الفاظ میں فوجی کارروائی بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے لیکن یہ ہماری پالیسی کا صرف ایک حصہ ہے۔ ہم رواں سال حکومت کے ذریعے سیاسی عمل اور مذاکرات میں بھی پیش رفت چاہتے ہیں۔

برطانوی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں 2015ء میں افغانستان سے نیٹو افواج کی طے شدہ انخلا کے بعد ممکنہ خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اِن سے نمٹنے کے لیے ابھی تک کوئی جامع پالیسی مرتب نہیں کی گئی، جب کہ رپورٹ میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ پر طالبان رہنماؤں سے جلد از جلد بات چیت شروع کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

XS
SM
MD
LG