رسائی کے لنکس

بریڈ فورڈ میں واقع 'گروو ہاؤس پرائمری اسکول' نے کلاس میں بچوں کو روایتی انداز میں پڑھانے کے بجائے انھیں ڈیسک کے ساتھ کھڑا رکھ کر پڑھانے کا تجربہ کیا ہے۔

ایک برطانوی اسکول یورپ کا پہلا ایسا اسکول بن گیا ہے جہاں شاگردوں کو کلاس میں بٹھا کر نہیں بلکہ کھڑا رکھ کر پڑھایا جاتا ہے۔

بریڈ فورڈ میں واقع 'گروو ہاؤس پرائمری اسکول' نے کلاس میں بچوں کو روایتی انداز میں پڑھانے کے بجائے انھیں ڈیسک کے ساتھ کھڑے رکھ کر پڑھانے کا تجربہ کیا ہے۔

برطانوی اخبار 'مرر' کے مطابق محققین کی طرف سے اسکول کو سات ہفتوں پر مشتمل ایک آزمائشی پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں خصوصی میزوں کے ساتھ کھڑے ہو کر پڑھائی کرنے والے طلبہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس تجرباتی مطالعے کے تحت پانچویں جماعت کے 9 سے 10 برس کے طالب علموں کو 6 خصوصی میزوں کے ساتھ کھڑے رکھ کر پڑھایا جاتا ہے جبکہ ایک ہفتے میں ایک بچے کے لیے اس میز کے ساتھ 230 منٹ گزارنا ضروری ہیں۔

اسکول ٹیچر نینا راجرز نے 'مرر' کو بتایا ہے کہ بچے اس تجرباتی پروگرام میں حصہ لینے پر بے حد خوش ہیں اور صرف دو ہفتوں کے دوران کلاس میں بہتری آئی ہے۔ بچے زیادہ فعال ہیں اور ان کی توجہ بھی بہتر ہو رہی ہے۔ حتی کہ جب انھیں بیٹھنے کی اجازت ہوتی ہے اس وقت بھی بچے کھڑے ہو کر پڑھائی کرنا چاہتے ہیں۔

اس آزمائشی پروگرام میں 55 بچے حصہ لے رہے ہیں جنھیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ طلباء کی نصف تعداد فروری سے ایسٹر کے دوران سات ہفتوں تک خصوصی میزوں کے ساتھ پڑھائی کرتے ہوئے گزارے گی جس کے بعد اسی طرح دوسرا گروپ اگلے سات ہفتوں کے لیےاس پروگرام میں حصہ لے گا۔

تجربے کے دوران طلباء کو دو طریقوں سے معائنہ کیا جائے گا۔ جسمانی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے بچوں کی کمر کے ساتھ ایک سرخ باکس باندھا گیا ہے۔ دوسرے طریقے میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا ان کی ران کے ساتھ باندھا گیا جس سے یہ پیمائش ہوگی کہ طالب علم کب بیٹھا تھا اور کب کھڑا تھا۔

تجربے کے دوران طالب علموں کا وزن، قد، بلڈ پریشر اور کمر کی پیمائش اور اسپورٹس سے متعلق نقل وحرکت کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔

مطالعے سے وابستہ محقق سیلی باربر کہتی ہیں کہ، "اس خیال کے دو پہلو ہیں، اول ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا شاگردوں کے رویہ کو بدلا جاسکتا ہے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ اگر ابتدا سے ہی صحت مند طرز زندگی کو اپنا لیا جائے تو بالغ ہونے کے بعد بھی یہ برقرار رہتی ہے۔

"دوسری جانب مطالعوں میں یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ زیادہ دیر بیٹھنے سے بچوں میں توجہ کی کمی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی صحت اور رویہ پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اسی لیے ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا یہ تحقیق اسکولوں کے کلچر کو تبدیل کرسکتی ہے"۔

تجربے سے اخذ کیے جانے والے نتیجے کا موازنہ مطالعے کے اختتام پر کیا جائے گا۔

'بورن ان بریڈ فورڈ' نامی اس سماجی مطالعے سے وابستہ محققین 'لافبرح یونیورسٹی' کے ساتھ مل کر اس 'اسٹینڈنگ لرننگ پراجیکٹ' کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر سیلی کے مطابق اس منصوبے کو اب تک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے علاوہ ٹیکساس کے ایک اسکول میں بھی متعارف کرایا جا چکا ہے لیکن یورپ میں پہلی بار اس پر عمل کیا جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG