رسائی کے لنکس

افغان جنگ کے لیے برطانوی عوام کی حمایت میں کمی

  • ہنری ویل

رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ برطانیہ میں افغان جنگ کے لیے لوگوں کی حمایت کم ہورہی ہے اور جولائی میں افغانستان میں 15 برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اس جنگ کے حق میں حکومت کے دلائل پر لوگوں کے شہبات بڑھ رہےہیں۔

رات کی تاریکی میں چنوک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے برطانوی فوجیوں کو جنوبی افغانستان میں واقع ایک مرکز سے طالبان کے ایک گڑھ میں پہنچایا جاتا ہے۔

یہ اس موسم گرما میں برطانوی فوجیوں کا طالبان کے خلاف سب سے بڑا فوجی آپریشن ہے ۔ برطانوی دستے اپنی اس کارروائی کے دوران سینکڑوں افغان فوجیوں کے ساتھ مل کر صوبے ہلمند کے قصبے سید آباد کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ طالبان کا ایک مضبوط گڑھ ہے، اور فوجی دستوں اور مقامی افغان باشندوں کے خلاف روزانہ استعمال کیے جانے والے گھریلو ساخت کے بم اور دیگر دھماکہ خیز مواد کا زیادہ تر حصہ اسی علاقے میں تیار کیا جاتا ہے۔کیپٹن برینڈ پائینو برطانیہ کی ایک پلاٹون کے کمانڈر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے جوان عسکریت پسندوں کے حملے سے بچاؤ کے لیے اپنے مورچے بنا رہے ہیں ۔ ہم یہاں لمبے عرصے کے قیام کے لیے خوراک اور پانی کا ذخیرہ کررہے ہیں ۔ اور اس کے بعد ہم علاقے کا گشت شروع کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا ہم مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرسکتے ہیں اور شورش پسندوں کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔

برطانوی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں ، لیکن افغانستان میں بحیثیت مجموعی جولائی کا مہینہ خاصا سخت رہاہے اور رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ اس جنگ کے لیے برطانوی عوام کی حمایت گر رہی ہے ۔ یہاں جولائی میں 15 برطانوی فوجی مارے جاچکے ہیں۔

بھارت کے اپنے حالیہ دورے میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغان جنگ کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیاتھا کہ برطانوی فوجی اپنے ملک کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ جنگ لڑرہے ہیں۔

لیکن رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسرمیلکولم چیمرز کا کہنا ہے کہ برطانوی عوام اپنے وزیر اعظم کے پیش کردہ جواز قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ موجوہ اور سابقہ دونوں حکومتوں نے دہشت گردی کو ایک دلیل کے طورپر پیش کیا کہ ہم افغانستان میں اس لیے ہیں تاکہ القاعدہ کو پاکستان سے واپس افغانستان آنے سے باز رکھ سکیں، اور انہیں لندن کی سڑکوں پرمستقبل کے حملوں سے روک سکیں۔یہ ایک پیچیدہ اورتہہ در تہہ جواز ہے۔ جس پر اس ملک کے لوگ بھروسے لیے تیار نہیں ہیں۔

افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کے مسئلے پرطویل تنازع کے نتیجے میں نیدر لینڈ میں اتحادی حکومت کے ٹوٹنے کے بعد جنوبی افغان صوبے ارزگان میں تعینات دو ہزار ڈچ فوجی اپناسامان باندھ کر واپس جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ اگلے سال کینیڈا کے فوجی بھی اپنے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔

جب کہ افغانستان میں نیٹو فورس کے ترجمان بریگیڈیر جنرل ہوزے بلوٹز اپنے ایساف کے اتحاد کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایساف اور افغان سیکیورٹی فورسز کی موجودگی عمومی طورپر بہتر ہے۔اور ہمارے پاس ضروری فوجی نفری موجود ہے۔

پروفیسر چیمرزکہتے ہیں کہ لوگوں کی حمایت کا انحصار افغانستان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پرہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم 2011ء کے موسم گرما تک وہاں رکتے ہیں اور لوگوں کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہم نے وہاں کوئی حقیقی کامیابی حاصل کی ہے تو پھر میرا نہیں خیال کہ یہاں برطانیہ یا امریکہ میں یہ کہنے کی کوئی گنجائش موجود ہوگی کہ آئیے اب کچھ اور اقدام کریں۔ اور پھر ویت نام کی طرح آپ پر سے لوگوں کا اعتماد بڑی تیزی سے گرے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور دوسرے نیٹو ممالک میں اس عوامی رائے کے ردعمل میں کہ یہ ایک ہاری ہوئی جنگ ہے، افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف مہم کامیاب ہوسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG