رسائی کے لنکس

برطانوی شہریوں کا حکومت سے سزائے موت کی بحالی کا مطالبہ

  • سیلاح ہینسے

برطانوی پارلیمان

برطانوی پارلیمان

برطانیہ میں سینکڑوں لوگوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ سزائے موت بحال کر دی جائے۔ یہ درخواست ایک نئی انٹرنیٹ اسکیم کے ذریعے کی گئی ہے جوحکومت نے گذشتہ جمعرات سے شروع کی ہے ۔ اس اسکیم کے تحت جن ای پٹیشنز پر کافی لوگ دستخط کردیں گے، ان پر پارلیمینٹ میں بحث ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں جمعرات کے روز پارلیمینٹ میں دارالعوام کے لیڈر نے کہا کہ اگر کافی تعداد میں لوگ برطانیہ میں سزائے موت کی بحالی کے لیے درخواست دیں، تو قانون سازوں کو اس پر بحث کرنی چاہیئے۔

یہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے جمعرات کے روز سزائے موت کی بحالی کی امید پر ایک آن لائن درخواست پر دستخط کیے ہیں، اور پارلیمینٹ کے چند ارکان کے لیے جنھوں نے اس کی حمایت میں آواز بلند کی ہے، اچھی خبر ہو سکتی ہے۔ آن لائن درخواست سے قبل، قدامت پسند رکن پارلیمینٹ اینڈریو ٹرنر نے کہا کہ بعض سنگین جرائم کے لیے مناسب سزا یہی ہے ۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے نیئل ڈرکن اس رائے سے متفق نہیں ۔ وہ کہتے ہیں’’اس طرح برطانیہ کو عام رجحان کے خلاف جانا پڑے گا۔ ساری دنیا میں سزائے موت کی منسوخی کے لیے بڑی مضبوط تحریک چل رہی ہے ۔‘‘

سزائے موت ان کئی موضوعات میں شامل ہے جن کے بارے میں حکومت کی ایک آن لائن اسکیم کے تحت درخواستیں پیش کی گئی ہیں۔ جن دوسرے موضوعات پر درخواستیں پیش کی گئی ہیں ان میں برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے، اور خود اپنے گھر میں اپنے دفاع کا نا قابلِ تنسیخ حق شامل ہیں۔

ہر ایسی درخواست کو جس پر 100,000 سے زیادہ برطانوی شہری دستخط کر دیں، پارلیمینٹ کے دارالعوام میں بحث کے لیے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے ۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ڈرکن کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ سزائے موت کو بحال کیا جائے گا۔’’تمام آثار ایسے نظر آ رہے ہیں کہ اگر ارکانِ پارلیمینٹ اور دارالامرا کے ارکان اس معاملے پر بحث کرتے ہیں، تو وہ تقریباً یقینی طور پر ایسی کسی بھی تجویز کو بھاری اکثریت سے مسترد کردیں گے کہ سزائے موت کو بحال کر دیا جائے۔‘‘

برطانیہ میں آخری بار تقریباً پانچ عشرے قبل سزائے موت دی گئی تھی۔ لیکن برطانوی عوام میں کچھ لوگ اب بھی اس کے حامی ہیں۔

ہینسرڈ سوسائٹیز ڈیجیٹل ڈیموکریسی پروگرام کے ڈائریکٹر اینڈی ویلیمسن کہتے ہیں کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہے کہ انٹرنیٹ پر جن موضوعات کے بارے میں درخواستیں دی جا رہی ہیں، ان میں سزائے موت سرِ فہرست ہے۔’’جب کبھی آپ ایسا کوئی سسٹم شروع کرتے ہیں، اس قسم کے عوامی مطالبات کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ امیگریشن کے بارے میں درخواست آئے گی، سزائے موت کے بارے میں درخواست پیش کی جائے گی اور منشیات کے استعمال کو جرائم کی فہرست سے نکالنے یا قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ چند درخواستیں ہیں جن کے پیش کیے جانے کی توقع کی جانی چاہیئے۔‘‘

بعض لوگوں نے اس اسکیم پر تنقید کی ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس طرح مخصوص مفادات رکھنے والے گروپ اپنے موضوعات پارلیمانی ایجنڈے میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس طرح پارلیمینٹ کے ارکان کا وقت ایسے معاملات پر بحث میں ضائع ہوتا ہے جو کبھی قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکتے۔

بعض دوسرے ناقدین کہتے ہیں کہ الیکٹرانک درخواستیں جمہوریت کی مصنوعی شکل ہیں۔ تا ہم ویلیمسن کا خیال ہے کہ ای پٹیشنز کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔’’یہ جمہوریت کا اہم جزو ہے ۔ جمہوریت ایک مسلسل عمل ہے ۔ جس چیز سے ہم سب سے زیادہ مانوس ہیں اور جس میں ہم میں سے بیشتر لوگ حصہ لیتے ہیں، وہ ووٹ ہے۔ لیکن پارلیمینٹ کے لیے ووٹ ڈالنے کا موقع ہمیں ہر چار یا پانچ برس بعد ہی ملتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ درمیانی حصے میں جو جمہوریت ہوتی ہے، وہ واقعی اہم ہے۔‘‘

لیکن وہ کہتے ہیں کہ اہم بات یہ ہے کہ پارلیمینٹ کے ارکان ان درخواستوں کو واقعی سنجیدگی سے لیں۔ ایک عام رجحان یہ ہے کہ ان درخواستوں کو شعبدہ بازی سمجھا جاتا ہے ۔

2007 میں، برطانیہ میں تقریباً 20 لاکھ لوگوں نے حکومت کی اس اسکیم کے خلاف درخواست پر دستخط کیے جس میں سڑکوں کے استعمال پر براہِ راست فیس لگانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG