رسائی کے لنکس

افغان ایئر فورس کے قیام کی تیاری

  • جینیفر گلاس

افغان ایئر فورس کے قیام کی تیاری

افغان ایئر فورس کے قیام کی تیاری

افغانستان میں جہاں امریکی اور نیٹو افواج سامان رسد کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی اورشرپسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر وں کا استعمال کر رہی ہیں ، افغانستان کی اپنی فضائیہ کی تیاری کی کوششیں بھی جاری ہیں ، جن کے بارے میں دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل مدتی اور مہنگا منصوبہ ثابت ہوگا ۔

افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کے باعث قندھار ائیر فیلڈ اس وقت دنیا کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے ۔ افغانستان کے جنوب میں واقع اس ہوائی اڈے کی فضائیں سارا دن اور ساری رات اترنے اور چڑھنے والے جیٹ ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹرز کی آوازوں سے گونجتی رہتی ہیں ۔

اس وسیع و عریض ہوائی اڈے کے ایک کونے میں ایک ہیلی کاپٹر کی مرمت ہو رہی ہے ۔ اور یہ کام کرنے والے کارکن افغان ائیر کور کاحصہ ہیں ۔ نیٹو کو امید ہے کہ ایک دن افغان ائیر کور اس ہوائی اڈے اور دیگر افغان ہوائی اڈوں کو سنبھالنے کا کنٹرول سنبھالنے کے قابل ہو جائے گی ۔

کرنل عبدل حلیم یہاں جہازوں کی مرمت کے انچارج ہیں، ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے دور میں ائیر کور کا کام قیدیوں کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی اور جنگی جہازوں کی مرمت کرنا تھا ، اب ان کا کہنا ہے کہ ائیر کور کو نئے سرے سے تیار کرنا پڑ رہا ہے ۔

کیپٹن کرس ٹومین کہتے ہیں کہ یہ ہیلی کاپٹرز تیس سال سے زیادہ پرانے ہیں لیکن پرواز کرنے اور کم کشادہ ائیر فیلڈ پر اتر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور تکنیکی اعتبار سے بالکل ٹھیک ہیں ۔

کرنل برنارڈ میٹر نیٹو کی طرف سے افغان عملے کی تربیت پر مامور ہیں ، اور انہیں ان کی مشکلات کا اندازہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان تمام مشنز کو مکمل کرنے کےلئےاور افغان حکومت کو اپنے لوگوں کی مدد کرنے کے قابل بنانے کے لئے جتنے وسائل ہمیں درکار ہیں ، اتنے ہمارے پاس موجود نہیں ہیں ۔

اس وقت افغان ائیر کور کا زیادہ کام اپنی فوج اور اہلکاروں کو ملک میں ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہے ۔ قندھار میں ان کے پاس صرف چار ہیلی کاپٹر ہیں جبکہ پانچواں مرمت کا منتظر ہے ۔ مجموعی طور پر افغان ائیرکور کے پاس صرف پچاس ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز ہیں، نیٹو ان کی تعداد بڑھا کر تین گنا کرنا چاہتی ہے ۔ جبکہ ائیر کور کے عملے کی تعداد جو اس وقت تین ہزار تین سو ہے، جسے آٹھ ہزار تک بڑھانے کا منصوبہ ہے ۔

افغانستان کے فوجی صلاحیت پر تحقیق کرنے والوں کے مطابق افغان فضائیہ کی تیاری میں وقت لگے گا ، کیونکہ پائلٹ تیار کرنے میں سالہا سال لگتے ہیں ہے اور اس کے لئے افغان فضائیہ کے اہلکاروں کو جہاز اڑانا ہی نہیں ، بین الاقوامی ایوی ایشن کی زبان یعنی انگریزی بھی سیکھنی ہوتی ہے ۔

افغان ائیر کور کے پائلٹوں کی اوسط عمر45 سال ہے ، جبکہ اب تک صرف ایک نئے افغان پائلٹ نے اپنی تربیت مکمل کی ہے ۔ زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے اس وقت موجود افغان پائلٹوں میں سے چند ہی اگلی دہائی میں افغان ائیر فورس کا حصہ رہیں گے ۔ افغانستان میں خانہ جنگی اور90 کی دہائی میں طالبان دورحکومت میں افغانوں کو اپنی فضائیہ کو ترقی دینے کا موقعہ نہیں ملا ۔

نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ افغان ائیر کورکو اپنے پاوں پر کھڑا ہونے اور اپنے ہوائی اڈے سنبھالنے میں کئی سال لگیں گے ۔ لیکن افغان صدر حامد کرزئی اس ائیر کور کو افغان ائیر فورس کہلانا چاہتے ہیں ۔ جس نے اپنی کارکردگی میں پیش رفت اس وقت دکھائی جب اسے اس سال مئی میں افغانستان کے ایک دور دراز علاقے میں گرنے والے جہاز کی تلاش اور امدادی سرگرمیوں کی قیادت کرنے کا موقعہ ملا ۔

XS
SM
MD
LG