رسائی کے لنکس

تارکِ وطن کی ہلاکت پر بلغاریہ کے صدر کی معذرت


بلغاریہ اور ترکی کی سرحد پر تعینات ایک محافظ

بلغاریہ اور ترکی کی سرحد پر تعینات ایک محافظ

صدر پلیونیلیو نے پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکینِ وطن اور مہاجرین سے بھی درخواست کی کہ وہ یورپی اور بلغاریہ کے قوانین کا احترام کریں۔

بلغاریہ کے صدر نےاپنے ملک کی سرحد پر پولیس کی فائرنگ سے ایک افغان تارکِ وطن کی ہلاکت پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ حالات کی سنگینی کا اظہار ہے۔

جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر روزین پلیونیلیو نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاجرین کی لاکھوں کی تعداد میں یورپ آمد سے جنم لینے والے بحران کا فوری حل تلاش کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یورپی یونین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بحران کی اصل وجوہات کا تعین کرکے ان کے سدِ باب کے لیے اقدامات کرے۔

صدر پلیونیلیو نے پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکینِ وطن اور مہاجرین سے بھی درخواست کی کہ وہ یورپی اور بلغاریہ کے قوانین کا احترام کریں۔

بلغاریہ کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مقتول افغان شہری 50 سے زائد پناہ گزینوں کے ایک گروہ کا حصہ تھا جو جمعرات کو ترکی سے بلغاریہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

وزارت کے ایک اعلیٰ اہلکار جارجی کوستووف نے دارالحکومت صوفیہ میں صحافیوں کو بتایا کہ سرحدی محافظوں نے تارکینِ وطن کو سرحد پار کرنے سے روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی جس کے دوران ایک گولی غلطی سے ایک شخص کو جالگی۔

اہلکار نے بتایا کہ گولی لگنے سے زخمی ہونے والا تارکِ وطن بعد ازاں زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

رواں سال کے آغاز سے ہی لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کی یورپ آمد کا سلسلہ شروع ہونے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتِ حال کے دوران کسی یورپی ملک کی سرحد پر فائرنگ سے تارکِ وطن کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

فائرنگ کے واقعے اور تارکِ وطن کی ہلاکت کی اطلاع ملنے پر برسلز میں جاری یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں شریک بلغاریہ کے وزیرِاعظم بورس بوریسیو اپنا دورہ مختصر کرکے وطن واپس پہنچ گئے تھے جہاں انہوں نے صورتِ حال کے جائزے کےلیے اعلیٰ حکام کے ساتھ کئی اجلاس منعقد کیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک چھ لاکھ سے زائد پناہ گزین یورپی یونین کے رکن ممالک پہنچ چکے ہیں جن کی اکثریت ترکی سے یونان اور پھر وہاں سے دیگر شمالی ملکوں میں داخل ہوئی ہے۔

جمعرات کو برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں یورپی یونین کے رکن ملکوں نے مہاجرین کے بحران سے نبٹنے کے لیے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے جس میں ترکی مرکزی کردار ادا کرے گا۔

منصوبے کے تحت ترک حکومت مہاجرین کو غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچانے والے انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی اور اپنے ہاں مقیم 10 لاکھ سے زائد شامی پناہ گزینوں کا یورپ میں داخلہ روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

ان اقدامات کے جواب میں یورپی یونین نے ترک حکومت کو یورپی ملکوں کے دورے کے خواہش مند ترک شہریوں کو ویزے کی جلد فراہمی اور ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت دینے کے معاملے پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ترکی نے مہاجرین کے بحران سے نبٹنے کےلیے یورپی یونین سے 4ء3 ارب ڈالر امداد دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ لیکن یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ جنکر نے کہا ہے کہ اس مطالبے پر ترکی کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG