رسائی کے لنکس

پاسپورٹ آفس حکام کا کہنا ہے کہ لیمنیشن پیپر، انک اور بک لیٹ کی قلت کے سبب اب تک تقریباً سات لاکھ پاسپورٹس کا اجرا رکا ہوا ہے

پاکستان میں توانائی کے بحران کی طرح نئے پاسپورٹ کا اجرا بھی ان دنوں بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ کراچی کے بے شمار شہری دو، دو ماہ سے نئے پاسپورٹ کے منتظر ہیں۔

اس سلسلے میں پاسپورٹ آفس حکام کا کہنا ہے کہ لیمنیشن پیپر، انک اور بک لیٹ کی قلت کے سبب اب تک تقریباً سات لاکھ پاسپورٹس کا اجرا رکا ہوا ہے۔ تاہم، پاسپورٹ آفس صدر کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں لائن لگانے والے پاسپورٹ کے خواہشمند افراد اسے حکام کی نااہلی اور ہٹ دھرمی قرار دے رہے ہیں۔

پاسپورٹ آفس صدر کے ایک ذمے دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ نئے پاسپورٹ کے حصول کے لئے اب تک تقریبا ً سات لاکھ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ لیکن، ان میں سے ابھی تک صرف چند سو پر ہی کارروائی ہوسکی ہے۔

حکومت نے مذکورہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سینیٹ کے قواعد و ضوابط 2012 ءکے رول 166کے تحت قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے دو ہفتے کے اندر اندر تجاویز طلب کر لی ہیں۔

پاسپورٹ آفس صدر کے ہی ایک اورافسر نے بتایا کہ پاسپورٹ میں تاخیر کا عمل گزشتہ برس اکتوبر، نومبر میں شروع ہوا تھا۔ اان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ دو فروری تک اسلام آباد سے روزانہ کی بنیاد پر دس سے پندرہ پاسپورٹ بن کر آررہے تھے، لیکن اب وہ بھی رک گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صرف کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار سے بارہ سو کے قریب پاسپورٹس بننے کے لئے آتے تھے اور اتنی ہی تعداد میں پا سپورٹس کا اجراء بھی کیا جا تا تھا جو اب تقریباً بند ہو چکا ہے۔

نامہ نگار کے استفسار پر پاسپورٹ آفس کے عہدیدار نے بتایا کہ ’پاسپورٹس کے اجراء میں تعطل کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی جانب سے بک لیٹ بنانے والی کمپنی کو رقوم کی فراہمی نہ کرنا ہے۔ اگر حکومت چاہتی تو یہ معاملہ بہت پہلے حل ہو چکا ہوتا۔‘

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے پاسپورٹ کی مدت میں اضافے کے حوالے سے عہدیدار نے بتایا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے پاسپورٹس پر مینول اسٹمپ لگا کر ان کی میعاد بڑھائی جا رہی ہے۔ لیکن، کچھ ممالک مثلاً برطانیہ اور متحدہ عرب امارات اس کو ماننے سے انکاری ہیں۔

اس حوالے سے جب پاسپورٹ کے حصول کے لئے آنے والے ایک شخص ذیشان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تو مینول اسٹمپ لگا کر اپنے سر سے سب بوجھ اتار لیا لیکن بیرون ملک پاسپورٹس کی میعاد جدید کمپیوٹرائز طریقے سے دیکھی جاتی ہے۔ دوسرے ممالک تو اس اسٹمپ کو نہیں مانتے۔

پاسپورٹ آفس کے ایک اہلکار نصرت نے بتایا کہ لیمنیشن پیپرز، انک اور بک لیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو جب تک ادائیگی نہیں کر دی جاتی اس وقت تک یہ معاملہ حل نہیں ہو گا۔

ایک پاسپورٹ ایجنٹ ماجد نے بتایا کہ لیمینیشن پیپر شارٹ ہو نے کی وجہ سے پاسپورٹ بالکل بھی نہیں بن رہے ہیں۔ لیکن، اُن کےبقول، پیسہ ہر جگہ کام کرتاہے۔ ماجد کا کہنا تھا کہ72صفحوں والا پاسپورٹ بنوا کر دے سکتا ہے۔ لیکن، اس میں بھی پندرہ سے بیس روز لگ سکتے ہیں، جبکہ اس کے لئے ایک’موٹی رقم‘بھی خرچ کرنا ہوگی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG