رسائی کے لنکس

یکجا ہونے والی یہ کمپنی سالانہ 23 ارب ڈالر کمائے گی، جو دنیا کے 100 ممالک میں 18000 ریستوران چلاتی ہے۔ یہ دونوں فاسٹ فوڈ چینز اپنا صدر دفتر کینیڈا میں کھولنا چاہتے ہیں

ہیمبرگر کے مشہور امریکی ادارے، ’بَرگر کِنگ‘ نے 11 ارب ڈالر میں کینیڈا کی کافی اور ڈونٹس کی نامور خردہ فروش چین، ’ٹِم ہورٹنز‘ خرید لی ہے، جِس انضمام کے بعد، برگر کنگ دنیا کی تیسری بڑی فوڈ کمپنی بن چکی ہے۔

یکجا ہونے والی یہ کمپنی سالانہ 23 ارب ڈالر کمائے گی، جو دنیا کے 100 ممالک میں 18000ریستوران چلاتی ہے۔

’برگر کنگ‘ کی طرف سے نئے ادارے کی خریداری کے سلسلے میں مشہور امریکی سرمایہ کار، وارن بُفے کی کمپنی 3 ارب ڈالر کی مختصر رقم ڈال رہی ہے، حالانکہ وہ اس ادارے کا انتظام چلانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔


یہ دونوں فاسٹ فوڈ چینز اپنا صدر دفتر کینیڈا میں کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس فیصلے کے نتیجے میں دونوں کو مالی فائدہ ہوگا۔ تاہم، اس طرح کے فیصلے سے امریکہ میں اس وقت زور پکڑتے ہوئے مباحثے میں شدت آئے گی، جس میں اس بات پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران، کئی ایک امریکی اداروں نے اپنے صدر دفتر بیرونِ ملک قائم کر رکھے ہیں، جس کا مقصد امریکہ کے مقابلے میں غیر ملکوں میں آمدن پر لاگو ہونے والے محصول کی کم شرح سے استفادہ کرنا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے ٹیکس کے اِس انداز کو اختیار کرنے کو امریکی ٹیکس نظام کو جھانسا دینے کے مترادف قرار دیا ہے، جو حب الوطنی کے خلاف عمل ہے، اور جسے وہ غیر قانونی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برگر کنگ نے ہیمبرگرز کی فہرست میں شامل ایک ہمبرگر کا نام ’ہوم آف دیِ ووپر‘ رکھا ہے۔


کینیڈا کی یہ فوڈ کمپنی 1964ء میں قائم ہوئی، جِس کا مالک ہاکی کا ایک پیشہ ور کھلاڑی، ٹِم ہورٹن تھا، جو ایک عشرہ قبل کار کے ایک حادثے میں ہلاک ہوا۔

XS
SM
MD
LG