رسائی کے لنکس

مظاہرے اُس وقت شروع ہوئے جب 1987 سے منصب صدارت پر فائز بلیس کومپاوئرے نے ایک آئینی تجویز پیش کی، جس کی منظوری کی صورت میں وہ اگلی مدت کے لیے بھی صدر رہ سکتے تھے۔

برکينا فاسو کے صدر بلیس کومپاوئرے نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عبوری مدت کے اختتام کے بعد اقتدار کی منتقلی تک اپنے عہدے پر فائز رہیں گے۔

دارالحکومت اوادگا دوگو میں پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بولنے کے بعد جھڑپ میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

مظاہرے اُس وقت شروع ہوئے جب 1987 سے منصب صدارت پر فائز بلیس کومپاوئرے نے ایک آئینی تجویز پیش کی، جس کی منظوری کی صورت میں وہ اگلی مدت کے لیے بھی صدر رہ سکتے تھے۔

حکومت نے مظاہروں کے بعد اس تجویز کو رد کر دیا اور ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کو بھی ختم کر دیا، لیکن یہ اقدامات بھی مظاہرین کو مطمعن نا کر سکے۔

جمعرات کو ملک کی فوج کے سربراہ نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی اور ایک منصوبے کا اعلان بھی کیا کہ اقتدار 12 ماہ میں انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اُنھوں نے سر شام سے طلوع آفتاب تک کرفیو کے نفاذ کا بھی اعلان کر دیا۔

لیکن اس کے کچھ ہی گھنٹوں پر صدر بلیس کومپاوئرے ٹیلی ویژن پر آئے اور کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور عبوری مدت کے اختتام پر وہ اقتدار جمہوری انداز میں منتخب صدر کے حوالے کر دیں گے۔

XS
SM
MD
LG