رسائی کے لنکس

برما میں حزبِ اختلاف کی راہنما آنگ سان سوچی نے یکم اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے شفاف انعقاد پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

ضمنی انتخابات سے دو روز قبل جمعہ کو اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں، غیر ملکی سفارت کاروں اور انتخابی مبصرین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سوچی نے انتخابی عمل کی شفافیت اور آزادنہ انعقاد کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔

عالمی شہرتِ یافتہ جمہوریت پسند راہنما اپنی جماعت کے امیدواران کےحق میں ملک کے طول و عرض میں دو ماہ تک مسلسل انتخابی مہم چلانے کے بعد گزشتہ ہفتے علیل ہوگئی تھیں جس کے بعد جمعہ کے اجتماع میں وہ پہلی بار منظرِ عام پر آئیں۔

خاتون راہنما کا کہنا تھا کہ ان کی مصروفیات نے انہیں جسمانی طور پر کمزور کردیا ہے لیکن انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی کمزوری کے باوجود مہم چلانے اپنے حلقہ انتخاب میں جائیں گی۔

ان ضمنی انتخابات کو برمی حکومت کے لیے ایک امتحان قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ عالمی برادری انتخابات کے شفاف انعقاد سے سیاسی اصلاحات کے ساتھ برمی حکومت کی وابستگی کا تعین کرے گی۔

لیکن برما کی حکومت نے انتخابات کی نگرانی کے لیے آنے والے غیر ملکی مبصرین کو انتخابات سے صرف ایک ہفتہ قبل ملک میں داخلے کی اجازت دی ہے جس نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے رائے دہندگان کی فہرستوں میں بےقاعدگیوں اور بعض امیدواران اور رائے دہندگان کو خوف زدہ کرنے اور رشوت دینے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

گوکہ سوچی کی جماعت 'نیشنل لیگ فا ر ڈیموکریسی' نے 2010ء میں ہونے والے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن اس بار امن کی نوبیل انعام یافتہ راہنما ضمنی انتخاب میں شرکت کے حق میں دلیلیں دے رہی ہیں۔

اپنے خطاب میں سوچی نے اس تاثر کی نفی کی کہ انتخابی عمل کا حصہ بن کر انہوں نے برما کی موجودہ حکومت کو قانونی جواز فراہم کردیا ہے اور مغربی اقوام کو برما پہ عائد اقتصادی پابندیاں اٹھانے پہ قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس کے برعکس سوچی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت دو مقاصد کے لیے انتخابی میدان میں اتری ہے، ایک ان تمام نشستوں پہ کامیابی حاصل کرنا جہاں اس کے امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں اور دوسرا برمی عوام کو سیاسی طور پر بیدار کرنا۔

سوچی نے انتخابات کو قومی مفاہمت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں برما کے دور دراز سرحدی علاقوں میں جاری علیحدگی کی تحریکوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ان تنازعات کا حل اب بھی ممکن ہے۔

اجتماع کے دوران سوچی نے مستقبل کی حکمتِ عملی کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔ ان کے بقول وہ پہلے اپنی جماعت کی پارلیمان میں موجودگی یقینی بنانا چاہتی ہیں جس کے بعد ہی وہ مستقبل کی حکمتِ عملی پر بات کریں گی۔

XS
SM
MD
LG