رسائی کے لنکس

برما: ایک ہزار افراد بلیک لسٹ سے خارج

  • واشنگٹن

برما

برما

بلیک لسٹ سے خارج کیے جانے والے ایک ہزار سے زیادہ افراد میں کئی معروف سرگرم کارکن، سیاست دان اور عالمی سطح پر اپنی شناخت رکھنے والی کئی شخصیات بھی شامل ہیں

برما نے اس ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ سابقہ فوجی حکومت کی تیار کردہ بلیک لسٹ میں شامل دوہزار سے زیادہ افراد پر سے پابندیاں اٹھارہی ہے تاکہ وہ بلاخوف و خطر برما آسکیں۔ بلیک لسٹ طویل عرصے متنازعہ رہی ہے اور اسے فوجی حکمران اپنے ناقدین ، سرگرم کارکنوں اور ایسے افراد کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے جنہیں وہ اپنے لیے خطرہ تصور کرتی تھی۔

جمعرات کو ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے حکومت نے بلیک لسٹ سے خارج کیے جانے والے ایک ہزار سے زیادہ افراد کے ناموں کا اعلان کیا۔ ان میں کئی معروف سرگرم کارکن، سیاست دان اور عالمی سطح پر اپنی شناخت رکھنے والی کئی شخصیات بھی شامل ہیں۔

ایک ہزار سے زائد جن ناموں میں اعلان کیا گیا ہے ان میں سابق امریکی وزیر خارجہ مینڈلین البرائٹ ، آنجہانی فن کار سونی بونو اورفلپائن کے سابق آنجہانی صدر کورازون اکینو کے نام بھی شامل ہیں۔

یہ فہرست صدر تھین سین کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے۔

حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نے مذکورہ افراد کو بلیک لسٹ سے خارج کیوں کیا ہےاور نہ ہی ان باقی ماندہ چار ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے مقدر کے بارے میں کچھ کہا اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ انہیں ایسے کیا اقدام کرنے ہوں گے جس کے نتیجے میں ان پر برما کے دروازے کھل جائیں گے۔

سرکاری کنٹرول کے اخبار نیولائٹ آف میانمر نے حکومت کے اس اقدام کوسرہاہے اور اسے موجودہ حکومت کی سیاسی اور معاشی اصلاحات کی جانب ایک اور پیش رفت سے تعبیر کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG