رسائی کے لنکس

امریکی سفارت خانے کےترجمان نے بتایا کہ صرف امدادی کارکنوں کو رکھائین جانے کی اجازت دیا جانا کافی نہ ہوگا، امریکہ سفر پر لگنے والی اِن پابندیوں کے اٹھائے جانے کا خواہاں ہے

امریکہ نے حکومتِ برما، جسے میانمار بھی کہا جاتا ہے، سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی امدادی گروپوں کو کشیدگی کی شکار ریکھائین کی مغربی ریاست کی طرف لوٹنے کی اجازت دی جائے۔

گذشتہ ہفتے تمام بین الاقوامی امدادی گروپوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے کارکنوں کو بھی اس علاقے سے واپس بلا لیا گیا تھا، جب ہنگامہ آرائی کے دوران اُن عمارات پر حملے ہوئے جو غیر ملکی امدادی گروپوں کی ملکیت ہیں۔

امریکی سفارت خانے کےترجمان، اینڈریو لیہی نے جمعرات کے دِن ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ صرف امدادی کارکنوں کو ریکھائین جانے کی اجازت دیا جانا کافی نہ ہوگا، امریکہ سفر پر لگنے والی اِن پابندیوں کے اٹھائے جانے کا خواہاں ہے۔

لیہی کے بقول، میرے خیال میں ہم نے جو کچھ ریکھائین کی ریاست میں بار بار ہوتے دیکھا ہے وہ اس طرح کا ماحول ہے جس میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے والوں اور بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کے کارکنوں کے لیے مشکلات کا باعث ہے، خاص طور پر اُس آبادی کے لیے جسے خطرات لاحق ہیں‘۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی اور رابطے کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے باعث ریاست رکھائین کے عوام پر پڑنے والے اثرات پر اُنھیں بہت تشویش ہے۔

ترجمان، پیرے پرون نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اُنھیں پہلے ہی رکھائین کے عوام پر مرتب ہونے اثرات کا اندازہ ہے۔
XS
SM
MD
LG