رسائی کے لنکس

برما میں آزادی صحافت پر زور


برما میں آزادی صحافت پر زور

برما میں آزادی صحافت پر زور

برما کی سرکاری سنسرشپ (بحثیت محتسب پرکھنے) کی اتھارٹی کے سربراہ نے ملک میں آزادی صحافت پر زور دیتے ہوئے یہاں تک کہا ہے کہ ان کا اپنا محکمہ بھی بند کردینا چاہیئے۔

ذرائع ابلاغ کی جانچ پڑتال اور ان کی رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ٹینٹ سیو نے ’ریڈیو فری ایشیا‘ کو بتایا کہ سنسر شپ کے محکمے کو اصلاحات کے طور پر متعارف کرائے گئے اقدامات کے تحت ختم کر دینا چاہیئے۔

برما میں تمام شائع شدہ اخبارات اور رسائل کو سنسر شپ سے آزاد حتیٰ کہ پہلی مرتبہ نجی گروپس کو ملک کے نئے میڈیا قوانین کے تحت نئے اخبارات شائع کرنے کی اجازت سے متعلق ایک نیا قانون پارلیمنٹ میں زیر غور ہے۔

گذشتہ مہینے برما کے حکام نے خبروں کی بین الاقوامی ویب سائٹس پر طویل عرصے سے عائد پابندی ختم کی تھی۔

تاہم آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے بین الاقوامی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ‘ نے کہا کہ برما میں اب بھی میڈیا سنسر شپ کے قوانین موثر طریقے سے رائج ہیں اور کم از کم 14 صحافی اور آزادی صحافت کے حامی زیرحراست ہیں۔

XS
SM
MD
LG