رسائی کے لنکس

برما:ضمنی انتخاب اور جلاوطن افراد کے شکوک وشبہات

  • رون کوربن

برما کے لوگ اتوار کے روز پارلیمینٹ کے ضمنی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے ۔ لیکن تھائی لینڈ میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے برما کے لوگوں کا رویہ محتاط ہے اور وہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ان کے ملک میں واقعی اصلاحات ہو رہی ہیں۔

آن لائن اخبار، "The Irrawaddy," کے ایڈیٹر آنگ زا حال ہی میں برما کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ وہ 20 سال تک جلا وطنی کی زندگی گذار نے کے بعد برما گئے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ آنگ سان سوچی کے استقبال کے لیے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کا امڈ آنا بڑا ولولہ انگیز تھا۔

’’لوگ انتہائی غریب ہیں لیکن وہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں۔ یہ بڑا جذباتی منظر ہوتا ہے ۔ انھوں نے اپنی ساری امیدیں سوچی سے وابستہ کر لی ہیں۔ اور سوچی کی موجودگی میں انہیں کوئی ڈر نہیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں کچھ نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔‘‘

تھائی لینڈ میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے برما کے لوگ، اپنے ملک کی حکومت پر ایک عرصے سے تنقید کرتے رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اصلاحات کے بارے میں حکومت کے خلوص پر اب بھی شبہ ہے ۔

برما کے جو لوگ ملک سے باہر کام کر رہے ہیں، ان کے حقوق کی جدو جہد کرنے والے گروپوں نے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ ان کے ارکان کی شناخت کو اتوار کے روز ووٹنگ میں دھاندلی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

640 ارکان کی پارلیمینٹ میں، 48 نشستوں کے ضمنی انتخاب سے حکومت میں طاقت کے توازن پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن جلاوطنی کی زندگی گذارنے والے برما کے باشندوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہےکہ ووٹنگ میں 2010 کے انتخاب جیسی بے قاعدگیاں ہوں گی ۔ اس انتخاب کو دھاندلیوں کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا تھا۔

تھائی لینڈ میں قائم فورم فار ڈیموکریسی ان برما کے ترجمان سوئی آنگ نے کہا ’’یہ کہنا بہت مشکل ہےکہ یہ انتخابات دھاندلیوں سے پاک ہیں کیوں کہ کافی لوگوں کو خوفزدہ کیا گیا ہے، ووٹ خریدے گئے ہیں، اور ووٹروں کی فہرستوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو مر چکے ہیں۔ یہ تمام وہی بے قاعدگیاں ہیں جو 2010 کے انتخاب میں ہوئی تھیں۔‘‘

اس انتخاب کے بعد، برما میں آنگ سان سوچی کو گھر کی نظربندی سے رہا کر دیا گیا ہے، سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو چھوڑ دیا گیا ہے، اور نیوز میڈیا کے خلاف سینسر شپ کی پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں امریکہ سمیت مغربی ملکوں کے ساتھ مثبت رابطے قائم ہوئے ہیں اور گذشتہ سال کے آخر میں ، امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے ملک کا دورہ کیا۔

ان امید افزا علامتوں کے باوجود آنگ زا کہتے ہیں کہ برما میں بہت سے لوگ تبدیلی کی رفتار کے بارے میں محتاط ہیں’’برما میں اصلاحات کے عمل کے بارے میں بہت سے لوگوں کو بہت زیادہ شبہات ہیں۔ ہمارے ملک کے اندر بہت سے لوگ جو برمی زبان بولتے، پڑھتے، اور اسے عام زندگی میں استعمال کرتے ہیں، انہیں اس سلسلے میں کوئی خوش فہمیاں نہیں ہیں۔‘‘

حکومت میں برما کی فوج کا اثر و رسوخ اب بھی بہت زیادہ ہے، اور حکمران پارٹی کو پارلیمینٹ میں بہت بھاری اکثریت حاصل ہے ۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ برما کی جیلوں میں اب بھی 900 لوگ اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے کے جرم میں قید ہیں۔

لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کے ہجوم کو اور سیاسی جلسوں میں ان کے جوش و خروش کو دیکھا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ حالیہ تبدیلیاں بہت مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔
برما کے ممتاز صحافی تھیہا سا کہتے ہیں کہ اتوار کی ووٹنگ سے ملک کی سمت کا تعین ہو گا۔’’اس انتخاب کو بہت غور سے دیکھنا چاہیئے کیوں کہ اس سے حکومت کے خلوص کا امتحان ہو گا ۔ کیا یہ انتخاب واقعی آزادانہ اور منصفانہ ہوگا؟ پابندیوں کے خاتمے کے ضروری ہے کہ یہ انتخاب آزادانہ اور منصفانہ ہو۔ لہٰذا یہ انتخا ب برما کے لیے، اور بین الاقوامی برادری کے لیے بہت اہم ہو گا ۔‘‘

بعض دوسرے لوگ ووٹنگ کے منصفانہ ہونے کے بارے میں زیادہ پُر امید نہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ پھر بھی یہ انتخاب اہم ہوگا۔ ڈیبی سٹوتھارڈ انسانی حقوق کے گروپ آلٹرنیٹیو آسیان نیٹ ورک کی ترجمان ہیں۔ وہ کہتی ہیں’’ہمیں پوری طرح یہی توقع ہے کہ یہ انتخابات اتنے ہی غیر منصفانہ اور دھاندلیوں سے پُر ہوں گے جتنے 2010 کے تھے کیوں کہ وہی قوانین اور ضابطے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تا ہم، ہمیں یہ امید بھی ہے کہ NLD کے مٹھی بھر امیدواروں کو پارلیمینٹ میں آنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ ایسا بین الاقوامی برادری کو قائل کرنے کے لیے کیا جائے گا تا کہ برما کے خلاف عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں۔‘‘

ووٹنگ کا مشاہدہ کرنے کے لیے، ایشیا، یورپی یونین، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکہ سے بین الاقوامی مبصر ، نیز درجنوں غیر ملکی صحافی برما پہنچ گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG