رسائی کے لنکس

برما:جبری مشقت کی روک تھام میں محدود کامیابی

  • ران کوربن

برما ،جہاں طویل فوجی حکومت ، آنگ ساں سوچی کی تقریباً دو عشروں کی قید اور نظر بندی، انسانی حقوق کی پامالی اور دیگر کئی اندورنی مسائل کی بنا پر عالمی خبروں کا موضوع بنتا رہتا ہے ، وہاں جبری مشقت کے سلسلے میں بھی اس پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔حال ہی میں بین الاقوامی ادارہ محنت نے کہا ہے کہ برما میں جبری مشقت کی روک تھام میں محدود پیمانے پر پیش رفت دیکھنے میں آرہی ہے۔

برما کے لیے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ایک عہدے دار اسٹیو مارشل نے کہا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران ملک میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے نمایاں اقدامات کیے گئے ۔ اور اس سلسلے میں زیادہ تر کام پرائیویٹ تنظیموں اور شہری انتظامیہ نے کیا ہے۔

مارشل کہتے ہیں کہ حکومت نے اس سلسلے میں جبری مشقت کوغیر قانونی قرار دینے کےلیے کچھ قوانین کی منظوری دی ہے، جویقینی طور پر ایک اہم قدم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس قانون اور اس کے تحت عائد ذمہ داریوں کے سلسلے میں علاقائی حکام اور خاص طورپر فوج کے اندرشعورو آگہی پیدا کرنے کے لیے ، بہت کچھ کیا ہے۔

برما کی فوجی حکومت سڑکوں کی تعمیر سے لے کر جنگلوں میں فوجی سامان رسد کی فراہمی تک طویل عرصے تک جبری مشقت سے کام چلاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ شورش زدہ علاقوں میں، لوگوں کو ایک انسانی آلے کے طورپربارودی سرنگوں کی موجودگی کا کھوج لگانے کے لیے وہاں سے گذرنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ، بچوں اور بزرگوں سمیت برمی باشندوں کو ان کی مرضی کے خلاف کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی ایک اجتماعی جنسی تشدد اور قتل سمیت دیگرزیادتیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

مارشل نے جمعرات کے روز بنکاک میں کہا ہے کہ خاص طورپر فوج بدستور جبری مشقت لے رہی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ اس سلسلے میں شہری انتظامیہ کے اندر کچھ اچھی علامتیں ظاہر ہورہی ہیں۔ اور جہاں تک فوجی انتظامیہ کا تعلق ہے تو وہاں ابھی تک کوئی واضح پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔

جبری مشقت کی روک تھام کے سلسلے میں جس شعبے میں پیش رفت ہورہی ہے وہ ہے ایک نیا نظام ، جس کے تحت شہریوں کو عالمی ادارہ محنت کے پاس شکایت درج کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔ جس سے بچوں کی فوج میں جبری شمولیت کوروکنے میں مدد ملی ہے۔

ایک حالیہ رپورٹ میں عالمی ادارہ محنت نے کہا ہے کہ اب شکایت موصول ہونے پر حکومت کم عمر سپاہیوں کو باقاعدگی کے ساتھ فوج سے برخواست کررہی ہے۔

کچھ مسلح نسلی گروپ بھی بچوں کو فوجیوں کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور برمی حکومت نے یہ سلسلہ ختم کرانے کے لیے آئی ایل کو ان سے بات چیت کی اجازت دے دی ہے۔

مارشل کا کہنا ہے کہ اب یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ اس سال کے آخر میں انتخابات کے بعد پارلیمنٹ وجود میں آنے کے بعد ایسے نئے لیبر قوانین بنانے بنائے جائیں جن کے تحت ٹریڈ یونینز قائم کی جاسکیں۔

خطے سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ برما کی حکومت انتخابات سے قبل مزدورں اور معیشت سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے سلسلے میں زیادہ احتیاط سے کام لے رہی ہے ۔ اس سال کے آخر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات 20 سال کے عرصے میں پہلے انتخابات ہوں گے، جو توقع ہے کہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنیں گے۔

XS
SM
MD
LG