رسائی کے لنکس

برما صدر کی سرکاری عہدیداروں پر نکتہ چینی

  • ڈینیئل شیرف

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

صدر تھین سین نے سرکاری عہدے داروں کی کارکردگی پر تنقید کی اور کہا کہ ان کا اندازِ فکر اور کام کرنے کا طریقہ اب بھی وہی ہے جو فوجی حکمرانوں کے دور میں رائج تھا۔

گذشتہ ہفتے برما کے صدر تھین سین نے ایک بیان میں سرکاری عہدے داروں پر نکتہ چینی کی۔

انھوں نے کہا کہ نظامِ حکومت میں خرابیوں اور فوجی حکومت کے دور کے کرپشن کی وجہ سے اصلاحات کی کوششیں سست پڑ گئی ہیں۔ انھوں نے طرزِ عمل میں تبدیلی اور اقتصادی ترقی کی ایسی حکمتِ عملی پر زور دیا جس کی بنیاد عوام پر ہو۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی عشروں کی فوجی حکومت کی خرابیوں کی اصلاح کرنا آسان نہیں ہو گا۔

وزیروں اور مقامی لیڈروں کے سامنے ایک اہم تقریر کرتے ہوئے صدر تھین سین نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں میں فوجی حکومت سے سویلین حکومت تک اقتدار کی منتقلی بڑے منظم انداز میں ہوئی ہے۔

ان کی تقریر براہ راست قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر نشر کی گئی۔ انھوں نے ان سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کا خاص طور سے ذکر کیا جن کی بین الاقوامی سطح پر تعریف کی جا رہی ہے۔

لیکن صدر ھین سین نے اس بات پر زور دیا کہ برما اب بھی سماجی اور اقتصادی شعبوں میں اپنے ہمسایوں سے پیچھے ہے، اور اس کا نظم و نسق کا نظام بین الاقوامی معیاروں کے مطابق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بقیہ شعبوں میں زبردست جمہوری اصلاحات ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’وہ کہہ رہے ہیں کہ کسی ملک کی سیاست اور معیشت میں اصلاحات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس ملک کا سرکاری نظام کس حد تک موئثر ہے۔

صدر نے سرکاری عہدے داروں کی کارکردگی پر تنقید کی اور کہا کہ ان کا اندازِ فکر اور کام کرنے کا طریقہ اب بھی وہی ہے جو فوجی حکمرانوں کے دور میں رائج تھا۔


انھوں نے کہا کہ مقامی عہدے داروں کے کام کرنے کا طریقہ شفاف نہیں ہے، وہ لوگوں کی بات دھیان سے نہیں سنتے، اور قواعد و ضوابط کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’صدر کہہ رہے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سرکاری افسروں میں کرپشن موجود ہے، اور اس سے سرکاری کاروبار سست پڑ رہا ہے۔‘‘

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان کی تقریر بڑی اہم تھی ۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان کی تقریر اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنے کی طرف ایک اہم قدم تھا۔ تاہم، اس سے یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ فوج میں سخت رجحانات میں رہنے والے عناصر اور ایسے لوگ جن کا مفاد پرانے نظام سے وابستہ ہے، نا راض نہ ہو جائیں۔

بنکاک کے انسٹی ٹیوٹ آف سکیورٹی اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر Thitinan Pongsudhirak ((TIT-uh-nan pong-suh-TEAR-ahk)) کہتے ہیں کہ چونکہ صدر کی عمر 67 سال ہو چکی ہے اور ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ پھر کسی عہدے کے لیے انتخاب لڑیں، اس لیے وہ اپنے قابلِ اعتبار ہونے کے بارے میں زیادہ خطرہ مول لے سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’انہیں یہ اصلاحات تیزی سے کرنے کا اختیار ملا ہوا ہے، اور انہیں ، مثال کے طور پر، آنگ سان سوچی کی طرح اب کوئی اور انتخاب جیتنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بڑا جرأت مندانہ اقدام ہے۔ یہ سارا کام راتوں رات تو نہیں ہو سکتا۔ لیکن وہ اس کا لب و لہجہ متعین کر رہے ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اگر وہ بہت زیادہ تیزی دکھاتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کچھ بھی نہ کر سکیں۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ Thein Sein بڑا نازک سا توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

نظم و نسق کو بہتر بنانے کی حوصلہ افزائی کرنے، اور لوگوں کی شکایات کم کرنے کے لیے، صدر نے پورے ملک میں قصبوں کی سطح پر کمیٹیاں قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ یہ کمیٹیاں سرکاری عہدے داروں، کمیونٹی اور کاروباری لیڈروں، اور سرگرم کارکنوں پر مشتمل ہوں گی۔ انہیں مقامی معاملات پر بات چیت کرنے، فیصلے کرنے اور ان پر عمل در آمد کا اختیار حاصل ہوگا۔ پہلے یہ معاملات ٹاؤن شپ کے افسروں کی دسترس میں ہوتا تھا۔

واہو تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر Aung Thu Nyein کہتے ہیں کہ صدر مرکزی طاقت کے تصور اور فوج کی قیادت میں سیاست سے دور جانا چاہتےہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ملک کو اہلیت کی بنیاد پر تقرر کو فروغ دینا چاہیئے بجائے اس کے کہ ایسے افسر مقرر کیے جائیں جو حکومت یا فوج کے وفادار ہوں ۔اس وقت تک مجھے فوج سے ریٹائرڈ شدہ ایسے بہت سے لوگوں کا علم ہے جنہیں پھر سے حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر مقرر کر دیا گیا ہے۔‘‘

ماضی میں برما کے فوجی حکمرانوں نے ملک میں جاری نسلی بغاوتوں کو اقتدار پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔

اپنی تقریر میں، صدر تھین سین نے کہا کہ مسلح نسلی گروپوں کے ساتھ اختلافات ختم کرنے اور حکومت کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کے بارے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر قومی سطح پر تصفیہ نہ ہوا تو ملک امن اور ترقی کی برکتوں سے مستفید نہیں ہو سکے گا۔
XS
SM
MD
LG