رسائی کے لنکس

جوہری توانائی: برما اور عالمی ادارے کا معاہدہ طے


اِس پیش رفت کے باعث، اب اُن شکوک و شبہات کو دور کرنا ممکن ہوگا آیا پچھلے برس ملک پر طویل عرصے سے جاری فوجی حکمرانی کے خاتمے سے قبل برما جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں کرتا رہا ہے

برما اور اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے، آئی اے اِی اے نے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی معائنہ کاروں کو برما کی تنصیبات تک وسیع تر رسائی ممکن ہو جائے گی۔

یہ معاہدہ جسے اضافی ’پروٹوکول‘ کا نام دیا گیا ہے، اُس پر منگل کے روز برما کے وزیر خارجہ وُنا مونگ لِون اور عالمی تنظیم کے سربراہ، یوکی اِیا امانو نے دستخط کیے۔

اِس پیش رفت کے باعث، اب اُن شکوک و شبہات کو دور کرنا ممکن ہوگا آیا پچھلے برس ملک پر طویل عرصے سے جاری فوجی حکمرانی کے خاتمے سے قبل برما جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔

برما کے صدر تھین سئین کے ترجمان، یے یی ہُتوت نے ’وائس آف امریکہ‘ کی برمی سروس کو بتایا کہ یہ معاہدہ کافی معاون ثابت ہوگا۔

ڈیوڈ البرائٹ، سائنس اور بین الاقوامی سلامتی کے ادارے کے بانی و صدر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ نیا سمجھوتا اہمیت کا حامل ہے، لیکن برما کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں اتنی زیادہ تشویش نہیں رہی۔

برما نے 1992ء میں جوہری عدم پھیلاؤ کے سمجھوتے میں شمولیت اختیار کی۔

جوہری توانائی کا عالمی ادارہ، آئی اے اِی اے برما کو حساب کتاب اور جوہری مواد پر کنٹرول کے معاملات کے علاوہ طبی اور زرعی مقاصد کے ضمن میں ریڈئیشن کے استعمال میں معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG