رسائی کے لنکس

برمی عوام کے نظریات میں تبدیلی ناگزیر ہے، آنگ سان سوچی


برمی عوام کے نظریات میں تبدیلی ناگزیر ہے، آنگ سان سوچی

برمی عوام کے نظریات میں تبدیلی ناگزیر ہے، آنگ سان سوچی

نوبلر انعام یافتہ راہنما نے بدھ کو دارالحکومت رنگون میں اپنے حمامیوں کے ایک گروپ سے خطاب کے دوران کہا کہ عوام آپس میں اتحاد اور بہادری کا مظاہرہ کریں ۔

برما میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والی راہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ برمی عوام کے نظریات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ اپنے ہم وطنوں سے ان کا کہناتھا کہ لوگ اپنے اندر بیداری پیدا کریں ۔

نوبیل انعام یافتہ راہنما نے بدھ کو دارالحکومت رنگون میں اپنے حمامیوں کے ایک گروپ سے خطاب کے دوران کہا کہ عوام آپس میں اتحاد اور بہادری کا مظاہرہ کریں ۔

برما میں یکم دسمبر کو90 واں قومی دن منایا جارہا ہے ۔ اس موقع رنگون یونیورسٹی کے طالب علموں کی جانب سے ایک مظاہرہ بھی کیا گیا ، جنہوں نے 1920ء میں برما آزادی کی تحریک شروع ہوئی تھی، جسے آج 90 سال مکمل ہوگئے۔

دوسری جانب اپنے ایک انٹرویو میں آنگ سان سوچی کا کہنا تھا کہ عوامی رویوں میں تبدیلی قومی ہم آہنگی کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ انہوں نے خود پر ہونےوالی اس تنقید کا دفاع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے حکمراں فوجی قیادت سے مذاکرات کی خواہش کااظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کام مشکل ہو تو اسے چھوڑا نہیں جاسکتا ۔

آنگ ساں سوچی کو گزشتہ ماہ رہا کیا گیا تھا۔ ان کی رہائی سات نومبر کو 20س سال بعد ہونے والے پہلے قومی انتخابات کے بعد عمل میں آ ئی۔

انتخابات کے نتیجے میں فوجی حمایت کی ایک سیاسی جماعت کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہوئی جبکہ سوچی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG