رسائی کے لنکس

لسانی بنیادوں پر پرتشدد کارروائیوں کےآغاز کے ایک ہفتے بعد حکومت نے اس کے خلاف جو کریک ڈاؤن شروع کیا اُس کا نشانہ بھی رہونگیائی مسلمان ہی بنے۔

انسانی حقوق کی عملبردار ایک بین الاقوامی تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ برما کی سکیورٹی فورسز نے جون میں رہنگیائی مسلمانوں کو قتل، خواتین کی عصمت داری اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی ہیں۔


نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بدھ کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے مغربی راکین ریاست میں بدھ مت کے پیرو کاروں کی طرف سے لسانی بنیادوں پر پرتشدد کارروائیوں کےآغاز کے ایک ہفتے بعد حکومت نے اس کے خلاف جو کریک ڈاؤن شروع کیا اُس کا نشانہ بھی رہونگیائی مسلمان ہی بنے۔


تنظیم نے کہا ہے کہ امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں کی طرف جانے سے روکنے اور بعض واقعات میں ان کو گرفتار بھی کیا گیا۔


57 راکین کے باشندوں اور رہنگیائی مسلمانوں سے قلمبند کیے گئے بیانات پر مبنی رپورٹ میں برما میں ہونے والے ان فسادات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے نہ صرف اس لسانی تنازع کی گہری جڑیں بلکہ سویلین حکومت کی انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی بھی افشا ہوتی ہے۔
XS
SM
MD
LG