رسائی کے لنکس

رنگون میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کی رپورٹوں پر اُسے انتہائی تشویش اور افسوس ہے

برما نے، جسے میانمار بھی کہا جاتا ہے، اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ اس ہفتے فوج اور ایک بودھ ہجوم نے رخائین کی مغربی ریاست میں روہنگیا نسل کے مسلمانوں پر حملہ کیا، جِس واقع میں 60 افراد ہلاک ہوئے۔

صدارتی ترجمان، یے ہتوت نے جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ ‘کی برمی سروس کو بتایا ہے کہ اُنھو ں نے اس رپورٹ کے بارے میں ذاتی طور پر تفصیل حاصل کی، جسے ابتدائی طور پر ایسو سی ایٹڈ پریس نے جاری کیا تھا۔

تاہم، اُنھوں نے مزید کہا کہ دو چی یار تان کے گاؤں میں مسلمانوں کے ساتھ مقابلے کے بعد، ایک پولیس اہل کار لاپتا ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ اِس ہفتے کے اوائل میں تشدد کی آگ اُس وقت بھڑکی، جب دیہاتیوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔

’ارکان پراجیکٹ‘ کے کِرس لیوا نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ گروپ نے دیہاتیوں اور اہل کاروں کے درمیان بات چیت کے دوران ہونے والی تشدد کی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ یہ معمہ ابھی حل طلب ہے آیا اس کا ذمہ دار کون تھا۔

رنگون میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کی رپورٹوں پر اُسے انتہائی فکرمندی اور افسوس ہے۔
XS
SM
MD
LG