رسائی کے لنکس

برما میں اصلاحات خوش آئند مگر مزید کام کی ضرورت، صدر اوباما


صدر اوباما رنگون یونیورسٹی میں خطاب کر رہے ہیں

صدر اوباما رنگون یونیورسٹی میں خطاب کر رہے ہیں

برما کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے ملک میں پر تشدد واقعات کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے برما کے اپنے تاریخی دورے کے دوران حکومت کی متعارف کردہ اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جمہوریت، اقتصادی ترقی اور مفاہمت کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

رنگون یونیورسٹی میں صدر اوباما نے پیر کو اپنے خطاب میں امریکہ اور برما کے تعلقات کی طویل تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ برما اس لیے آئے ہیں کیوں کہ امریکہ انسانیت کی عزت و وقار پر یقین رکھتا ہے۔

’’گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں (برما میں) پانچ دہائیوں سے قائم آمریت کمزور ہوئی ہے۔ صدر تھین سین کی تبدیلی کی خواہش اصلاحات کے ایجنڈے سے پوری ہو سکتی ہے۔‘‘

صدر اوباما نے کہا کہ حکومت کی باگ ڈور اب سویلین کے ہاتھوں میں ہے اور پارلیمان اپنے فیصلوں کو منوا رہی ہے۔

امریکی صدر نے برما میں بعض سیاسی قیدیوں کی رہائی، 2010ء کے انتخابات میں ’نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘ کی شرکت، جبری مشقت پر پابندی، نئی اقتصادی اصلاحات اور لسانی گروہوں کے مابین عبوری جنگ بند کرنے کا ذکر بھی کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ دوستی کا ہاتھ بڑھانے برما آئے ہیں۔ صدر اوباما نے برما پر امریکی پابندیوں میں نرمی اور اپنے ملک کے سفیر کی تعیناتی کا بھی ذکر کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اب بھی برمی حکومت کو بہت کچھ کرنا ہے۔

’’یہ نمایاں سفر ابھی شروع ہوا ہے اور اسے ابھی بہت آگے جانا ہے۔‘‘

امریکی صدر نے اپنی تقریر میں علاقوں پر قبضے، آزادی اظہار و اجتماع پر بھی بات کی۔

حالیہ مہینوں میں مقامی بدھ مذہب کے پیرو کاروں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان نسلی فسادات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے برما میں پر تشدد واقعات کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس سے قبل صدر اوباما نے برما کے صدر تھین سین اور اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں جمہوریت کی جد و جہد کرنے والی خاتون آنگ سان سوچی سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں کے بعد صدر تھین سین کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر اوباما نے برما کی حکومت کی طرف سے جمہوری اور اقتصادی اصلاحات کے آغاز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اس ملک میں ترقی کے ’’حیرت انگیز‘‘ مواقع پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ادارک ہے کہ برما میں ان اصلاحات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات ایک ’’لمبے سفر کی سمت پہلا قدم ہیں۔‘‘

’’میں نے صدر تھین سین کو ہمارے اس یقین سے آگاہ کیا کہ ان کی اصلاحات میں پیش رفت سے ملک (برما) آگے بڑھے گا۔‘‘

برما کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ یہ دورہ حکومت کی توثیق کا عکاس نہیں بلکہ ملک میں جاری سیاسی اصلاحات کی تصدیق ہے۔


صدر اوباما اور آنگ سان سوچی

صدر اوباما اور آنگ سان سوچی

ان کا کہنا تھا کہ برما میں جمہوری انتخابات اور قیدیوں کی رہائی ’’خوبصورت ملک کی حیرت انگیز مخفی صلاحیتوں‘‘ کو حاصل کرنے کی جانب بڑھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

صدر اوباما نے آنگ سان سوچی سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کہا کہ اگر برما میں اصلاحات جاری رہیں تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ’’مضبوط- ہوں گے اور واشنگٹن رنگون کی کامیابی کے لیے ’’ہر ممکن مدد‘ کرے گا۔

برما کے دورے کے بعد صدر اوباما کمبوڈیا میں جنوب مشرقی ایشیا کے رہنماؤں کے سالانہ آسیان اجلاس میں شرکت کریں گے۔
XS
SM
MD
LG