رسائی کے لنکس

مجموعی طور پر رواں برس برما میں 870 میٹرک ٹن افیون تیار کی گئی جو کہ اقوام متحدہ کی طرف سے 2002ء سے اس ملک میں پوست کی کاشت پر نظر رکھنے کے دوران اب تک کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ برما میں 2013ء میں افیون کی پیداوار میں اضافہ جاری رہا جس کی وجہ پوست کے کاشتکاروں کے پاس گزر اوقات کے دیگر ذرائع کی کمی ہے۔

منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیا میں غیر قانونی طور پر منشیات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ سال کی نسبت افیون کی پیداوار میں 26 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

مجموعی طور پر رواں برس برما میں 870 میٹرک ٹن افیون تیار کی گئی جو کہ اقوام متحدہ کی طرف سے 2002ء سے اس ملک میں پوست کی کاشت پر نظر رکھنے کے دوران اب تک کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔

افغانستان کے بعد برما دنیا کا وہ ملک ہے جہاں افیون کے لیے پوست کاشت کی جاتی ہے جو کہ ہیرؤن اور دیگر منشیات کی تیاری کا ایک اہم جز ہے۔

1999ء میں برما نے 2014ء تک افیون کی پیداوار کے مکمل خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن 2006ء کے بعد سے ہر سال اس کی پیداوار میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سیاسی و اقتصادی کمزوری کی وجوہات پر توجہ دے کر انھیں بہتر کرنے میں حکومت کی ناکامی بھی پوست کی پیداوار میں اضافے کا ایک باعث ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق پوست کی کاشت سے حاصل ہونے والی آمدنی بہت سے کاشتکار گھرانوں کی ضروریات زندگی پورا کرتی ہے جب کہ اس کی نسبت چاولوں کی فصل سے حاصل ہونے والی آمدنی اس سے کہیں کم ہے۔

اس کے علاوہ یہ معاملہ برما میں دہائیوں پرانی نسلی بدامنی سے بھی جڑا ہے۔

غیرقانونی افیون کی پیداوار زیادہ تر شمال مشرقی ریاستوں کاچن اور شان میں ہوتی ہے جہاں عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

برما، لاؤس اور تھائی لینڈ کی سرحدوں کے ملاپ والا علاقہ جسے ’’گولڈن ٹرائی اینگل‘‘ بھی کہا جاتا ہے، دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بہتر بنیادی ڈھانچے، تجارتی رکاوٹوں کی کمی اور سرحدوں کی غیر موثر نگرانی کی وجہ سے ان علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کو منشیات کے اس غیر قانونی دھندے کے لیے زیادہ مواقع ملنے کا سبب ہیں جب کہ قریبی ممالک بشمول چین میں افیون کی بڑھتی ہوئی طلب بھی اس کی ایک وجہ ہے۔
XS
SM
MD
LG